پاکستان کی ثالثی کے ذریعے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
پاکستان کی ثالثی کے ذریعے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
پیر 18 مئی 2026 11:39
صدر ٹرمپ نے ایران کو انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدہ نہ ہوا تو اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس وقت تہران کی توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور اس حوالے سے امریکہ کی نئی تجاویز کا جواب دے دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پیر کو جاری ہونے والے بیان میں اسماعیل بقائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیسا کہ ہم نے کل اعلان کیا تھا اس کے مطابق تحفظات امریکہ تک پہنچا دیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق ’ثالث پاکستان کے ذریعے رابطے اور بات چیت جاری ہے‘، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
اسماعیل بقائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کے طریقہ کار کے حوالے سے عمان اور دوسرے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ان کے مطابق ’ایران اور عمان کی تکنیکی ٹیموں نے پچھلے ہفتے آبنائے ہرمز میں محفوظ راہداری کے بارے میں عمان میں بات چیت کی تھی۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا نے اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ہماری متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کسی بھی ملک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔‘
واشنگٹن نے پانچ نکاتی فہرست پیش کی تھی جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک جوہری سائٹ پر کام جاری رکھے اور افزودہ شدہ یورینیم کا ذخیرہ امریکہ منتقل کرے۔
ایرانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’امریکہ بغیر کسی ٹھوس رعایت کے وہ مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ کے دوران حاصل کرنے میں ناکام رہا اور یہی بات مذاکرات کی راہ میں تعطل کا باعث بنے گی۔‘
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اپنی تجویز میں ایران نے لبنان میں اسرائیل کی کارروائیوں سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
پچھلے ہفتے ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے امریکہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایران پر سے پابندیاں ہٹائے اور پابندیوں کے تحت بیرون ملک منجمد اثاثے حوالے کرے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امن معاہدے کی طرف آئے۔
اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور انہیں جلد قدم اٹھانا ہوگا ورنہ وہاں ان کے پاس کچھ باقی نہیں رہے گا۔‘