پاکستانی ثالثی کے ذریعے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امن مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور ایران و امریکہ دونوں نے تازہ تجاویز کے حوالے سے اپنے تبصرے بھجوائے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک پاکستانی سورس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے اتوار کی رات جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی نظرثانی شدہ تجویز امریکہ کے ساتھ شیئر کی تھی۔
اسماعیل بقائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کے طریقہ کار کے حوالے سے عمان اور دوسرے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ان کے مطابق ’ایران اور عمان کی تکنیکی ٹیموں نے پچھلے ہفتے آبنائے ہرمز میں محفوظ راہداری کے بارے میں عمان میں بات چیت کی تھی۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا نے اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ہماری متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کسی بھی ملک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔‘
امریکہ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے لیے ایران کے مجوزہ ایجنڈے پر تازہ ردعمل میں کوئی ٹھوس رعایت دینے میں ناکام رہا ہے۔
واشنگٹن نے پانچ نکاتی فہرست پیش کی تھی جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک جوہری سائٹ پر کام جاری رکھے اور افزودہ شدہ یورینیم کا ذخیرہ امریکہ منتقل کرے۔
ایران نے کہا ہے کہ ’امریکہ بغیر کسی ٹھوس رعایت کے وہ مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ کے دوران حاصل کرنے میں ناکام رہا اور یہی بات مذاکرات کی راہ میں تعطل کا باعث بنے گی۔‘
اپنی تجویز میں ایران نے لبنان میں اسرائیل کی کارروائیوں سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
پچھلے ہفتے ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے امریکہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایران پر سے پابندیاں ہٹائے اور پابندیوں کے تحت بیرون ملک منجمد اثاثے حوالے کرے۔