پاکستان کا زیرِسمندر تیل اور گیس کی تلاش کا اعلان، ’ایک ذخیرہ دریافت ہو گیا تو ملک توانائی میں خود کفیل ہو سکتا ہے‘
جمعرات 21 مئی 2026 16:25
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کی حکومت نے غیر ملکی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے قریباً دو دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد سمندر میں تیل و گیس کے ذخائر دوبارہ تلاش کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
اس سلسلے میں بدھ کو اسلام آباد میں ایک بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزارتِ پیٹرولیم میں ’آف شور بِڈ راؤنڈ 2025‘ کے تحت مزید 21 پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں اور ایکسپلوریشن لائسنسز پر دستخط کیے گئے۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں دو اہم ترین بلاکس کے معاہدے پہلے ہی طے پا چکے تھے، جس کے بعد اب اس پورے راؤنڈ کا معاہداتی فریم ورک مکمل ہو گیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی موجودگی میں ہونے والے ان معاہدوں کے تحت ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے متصل انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں، جس کے بعد اب باقاعدہ طور پر سمندر میں تیل کی تلاش کا عمل شروع کیا جائے گا۔
تاہم یہاں کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان توانائی کے عالمی بحران سے متاثر ہو رہا ہے، تو آخر ملکی حدود اور گہرے سمندر میں تیل و گیس کے ممکنہ ذخائر ہیں کتنے؟
اس کے علاوہ یہ ’آف شور بلاکس‘ اور ‘بِڈنگ‘ آخر ہوتی کیا ہے؟ اور کیا یہ کوشش پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کے امپورٹ بل سے نجات دلا پائے گی؟
تازہ پیش رفت: اسلام آباد میں کیا ہوا؟
وزارتِ پیٹرولیم میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک کی موجودگی میں ’آف شور بِڈ راؤنڈ 2025‘ کے تحت مزید 21 پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں دو اہم ترین بلاکس (آف شور ڈیپ-C اور آف شور ڈیپ-F) کے معاہدے وزیراعظم ہاؤس میں طے پا چکے تھے، جس کے بعد اب اس پورے راؤنڈ کا معاہداتی فریم ورک مکمل ہو چکا ہے۔
اس بولی میں پاکستان کی سرکاری کمپنی او جی ڈی سی ایل نے مجموعی طور پر آٹھ بلاکس حاصل کیے ہیں، جن میں سے دو میں وہ خود بطور آپریٹر کام کرے گی۔
تاہم ’ماری انرجی‘ اس راؤنڈ کی سب سے بڑی کھلاڑی بن کر اُبھری ہے، جس نے 18 بلاکس بطور آپریٹر اور 5 بلاکس جوائنٹ وینچر پارٹنر کے طور پر حاصل کیے ہیں۔
’آف شور بلاکس’ اور ’بڈنگ‘ کیا ہے؟
سادہ زبان میں سمجھا جائے تو ’آف شور‘ سے مُراد سمندر کے اندر کا وہ علاقہ ہے جو کسی ملک کی معاشی حدود میں آتا ہو۔ جب کوئی حکومت سمندر میں تیل تلاش کرنا چاہتی ہے، تو وہ سمندری نقشے پر مخصوص حصوں یا حدود کی لکیریں کھینچ دیتی ہے۔ ان مخصوص جغرافیائی حصوں کو ’بلاکس‘ کہا جاتا ہے۔
پاکستان نے سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے متصل انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط 23 بلاکس مختص کیے ہیں۔
اسی طرح ’آف شور بڈنگ‘ وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت دنیا بھر کی کمپنیوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان بلاکس میں سرمایہ کاری کے لیے اپنی بولیاں دیں، اور سب سے بہتر تکنیکی و مالیاتی منصوبہ پیش کرنے والی کمپنی کو وہاں کام کا لائسنس دیا جاتا ہے۔
گہرے پانیوں میں تیل اور گیس کی تلاش کیسے ہوتی ہے؟
آئل اینڈ گیس کے ماہرین کے مطابق زمین پر تیل ڈھونڈنے کے مقابلے میں سمندر کی تہہ کے نیچے ہائیڈروکاربنز کی تلاش ایک انتہائی مہنگا، پیچیدہ اور اعلٰی ٹیکنالوجی پر مبنی عمل ہے جس کا آغاز سائسمک سروے کے ذریعے ہوتا ہے۔
اس پہلے مرحلے میں خصوصی بحری جہاز پانی میں طاقتور صوتی لہریں چھوڑتے ہیں جو سمندر کے پانی اور پھر اس کی تہہ میں موجود چٹانوں سے ٹکرا کر واپس جہاز پر لگی مشینوں تک پہنچتی ہیں۔
بعد ازاں سپر کمپیوٹرز اس پیچیدہ ڈیٹا کی مدد سے زمین کے نیچے کا ایک تفصیلی تھری ڈی نقشہ تیار کرتے ہیں، جس سے ماہرینِ ارضیات کو یہ اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے کہ تیل یا گیس کس مخصوص جگہ پر موجود ہو سکتے ہیں۔
جب اس نقشے کی مدد سے کسی بہترین جگہ کا انتخاب کر لیا جاتا ہے، تو اگلے مرحلے میں وہاں آزمائشی کنویں کی کُھدائی شروع کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سمندر میں دیوہیکل اور لہروں پر تیرتے ہوئے ڈرلنگ رگز لائے جاتے ہیں، جو سمندر کی سطح سے نیچے چٹانوں کو کاٹتے ہوئے ہزاروں میٹر گہرائی تک چلے جاتے ہیں۔
پیٹرولیم کی دنیا میں اس پہلے آزمائشی کنویں کو ’وائلڈ کیٹ ویل‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس انتہائی مہنگے اور کٹھن مرحلے پر کامیابی کا امکان محض 10 سے 20 فیصد ہی ہوتا ہے، اور اگر یہاں قسمت اچھی ہو تو ہی تیل یا گیس کی دریافت کی سائنسی طور پر تصدیق ہو پاتی ہے۔
اب تک کی پیش رفت اور مستقبل کا طریقہ کار
وفاقی حکومت کے حالیہ معاہدوں کے تحت اس پورے مشن کو دو بڑے مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فیز ون (اگلے 3 سال) ابتدائی ریسرچ کا فیز ہے جس میں کمپنیاں مجموعی طور پر 8 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے سائسمک ڈیٹا اکٹھا کریں گی اور جیو فزیکل مطالعہ کریں گی۔
اُس کے بعد آتا ہے فیز ٹو یعنی ڈرلنگ کا مرحلہ، جس میں اگر فیز ون کے نتائج مثبت رہے اور کمپنیوں کو چٹانوں کے نیچے تیل کی موجودگی کے قوی آثار ملے، تو سمندر میں کنوؤں کی کُھدائی کا آغاز ہوگا۔ اس فیز میں پہنچ کر مجموعی سرمایہ کاری 1 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔
پاکستان کے پاس گہرے سمندر میں کتنے ذخائر ہیں؟
ہم نے اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق ممبر گیس اور پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے پر گہری نظر رکھنے والے ماہر محمد عارف سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے فی الوقت کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے پاس زیرِسمندر آف شور تیل اور گیس کے کتنے ذخائر موجود ہیں؟
اُن کے مطابق آج تک سمندر میں کوئی بہت بڑی دریافت ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی مستند سٹڈی سامنے آئی ہے۔ چونکہ ہمارے پڑوسی ممالک کے سمندری خطوں میں یہ ذخائر موجود ہیں، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ پاکستانی حدود میں ایسے ذخائر موجود نہ ہوں۔‘
’ہم اس وجہ سے آج تک کوئی بڑی دریافت نہیں کر سکے کیونکہ ہم نے وائلڈ کیٹ ویل (آزمائشی کنویں) ڈرل نہیں کیے۔ ان کے مطابق ’پاکستان کی 70 سے 75 سال کی تاریخ میں سمندر کے اندر صرف 16 سے 17 آف شور ویلز ڈرل ہوئے ہیں۔‘
محمد عارف نے آف شور کنوؤں کی ڈرلنگ نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ملک کی معاشی صورت حال کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی معاشی صورت حال خراب ہے اور گہرے سمندر میں صرف ایک آف شور کنواں ڈرل کرنے کے لیے ہی 150 سے 200 ملین ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں۔
تاہم انہوں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ اب بلاکس کمپنیوں کو الاٹ ہو گئے ہیں اور ہمیں اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
محمد عارف نے واضح کیا کہ سمندر میں تیل کی باقاعدہ تلاش کوئی ایسا کام نہیں جو راتوں رات ہو جائے، بلکہ کمپنیوں کو اگلے چار سے پانچ سال تک مسلسل کام کرنا پڑے گا کیونکہ یہ ایک طویل اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس عمل ہے جس میں کوئی بریک یا تعطل نہیں آنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کام بنا کسی رُکاوٹ کے جاری رہا، تو اب سے پانچ چھ سال بعد جا کر ہی ہم کسی کنویں کی کُھدائی اور کامیابی کی امید کر سکتے ہیں، کیونکہ پیٹرولیم کا اصول ہے کہ سمندر میں جتنے زیادہ کنویں کھودے جائیں گے، کامیابی کے امکانات بھی اتنے ہی بڑھیں گے۔
آف شور ذخائر کی تلاش کی کامیابی سے پاکستان کو کتنا فائدہ مل سکتا ہے؟
محمد عارف نے بتایا کہ پاکستان میں روزانہ تیل کی طلب قریباً چار لاکھ بیرل ہے۔اگر کسی ایک آف شور کنویں سے بھی بڑا ذخیرہ دریافت ہو جاتا ہے، تو نہ صرف پاکستان کا امپورٹ بل نمایاں حد تک کم ہو جائے گا بلکہ ملک مستقل بنیادوں پر توانائی میں خود کفیل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ افریقی ملک گھانا کے ہاں بھی اسی طرح گہرے سمندر کے آف شور بلاکس سے تیل نکلا تھا، جس کے بعد وہ دیکھتے ہی دیکھتے افریقہ میں تیل اور گیس برآمد کرنے والے بڑے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا۔