Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اداکارہ مومنہ اقبال کے ن لیگی ایم پی پر ہراسانی، سائبر بُلنگ کا الزم،  دونوں فریق این سی سی آئی اے میں پیش

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ پر آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، ذہنی اذیت اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے سنگین الزامات کے بعد جمعرات کو ن لیگی ایم پی اے اور مومنہ اقبال اپنے وکلا کے ساتھ این سی سی آئی اے میں پیش ہوئے۔
ادکارہ مومنہ اقبال نے انسٹاگرام سٹوری میں لکھا کہ انہیں ایک عرصے سے بااثر شخص کی جانب سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، ذہنی اذیت اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ انسٹاگرام پر انہوں نے لکھا ’این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کو بار بار رپورٹ کرنے کے باوجود ملوث فرد کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے کوئی مناسب کارروائی نہیں کی گئی اور قانونی کارروائی کرنے کے بجائے حوصلہ شکنی کی گئی۔‘
اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں اعلیٰ حکام، اہم سرکاری دفاتر، نیوز چینلز اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ٹیگ کیا۔
مومنہ اقبال نے خبردار کیا کہ اگر ان کی شکایات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو وہ پریس کانفرنس کے ذریعے تمام شواہد عوام کے سامنے رکھیں گی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی اپیل کی کہ فوری نوٹس لیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔
اداکارہ کے وکیل کے مطابق ایم پی اے ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کے لیے باقاعدہ رشتہ بھیجا تھا اور وہ اداکارہ سے تیسری شادی کرنا چاہتے تھے۔ جب مومنہ اقبال کو ایم پی اے کی پہلے سے شادی کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے تعلق ختم کر دیا۔ بعد ازاں جب اداکارہ کا کہیں اور رشتہ طے پایا تو ایم پی اے کی جانب سے انہیں ہراساں کیا جانے لگا۔
کراچی سے آن لائن موصول ہونے والی درخواست میں مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں جس کے بعد این سی سی آئی اے لاہور نے ابتدائی کارروائی کا آغاز کیا۔ ابتدائی مرحلے میں کیس کا میرٹ پر جائزہ لیا گیا۔ این سی سی آئی اے نے دونوں فریقین کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے آج طلب کیا تھا۔
اداکارہ مومنہ اقبال نے این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور اپنے الزامات کے ثبوت بھی جمع کروائے۔
اس موقع پر ان کے وکیل بیرسٹر عدنان نے میڈیا سے گفتگو کی۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم پی اے اداکارہ مومنہ اقبال سے شادی کے خواہاں تھے اور دونوں کے درمیان 2022 سے تعلقات تھے۔ وکیل نے بتایا کہ ایم پی اے نے مومنہ اقبال کے لیے باقاعدہ رشتہ بھی بھیجا تھا اور وہ اداکارہ سے تیسری شادی کرنا چاہتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب مومنہ اقبال کو ایم پی اے کی شادی کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے تعلق ختم کردیا۔ وکیل کے مطابق بعد ازاں جب مومنہ اقبال کا کہیں اور رشتہ طے پایا تو ایم پی اے کی جانب سے انہیں ہراساں کیا گیا۔ اداکارہ کے وکیل نے کہا کہ مومنہ اقبال کی شادی مقررہ تاریخ پر ہی ہوگی اور انہیں امید ہے کہ اداکارہ کو انصاف ملے گا۔ وکیل نے اس معاملے کا نوٹس لینے پر وزیراعلیٰ پنجاب کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ایم پی اے ثاقب چدھڑ بھی اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ این سی سی آئی اے میں پیش ہوئے۔ ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے انہیں قابل اعتراض مواد اپلوڈ کرنے سے متعلق نوٹس ملا ہے۔ انہوں نے کہا ’میڈیا پر چلنے والی قیاس آرائیاں اور درخواست کے مندرجات ایک جیسے نہیں ہوتے اور جب تک الزامات کی تفصیلات سامنے نہ آتیں، کوئی بات نہیں کریں گے۔‘
وکیل نے یہ بھی کہا کہ این سی سی آئی اے ہراسگی کا فورم نہیں ہے اور اگر سوشل میڈیا پر کوئی قابل اعتراض مواد پایا گیا تو تفصیلات لے کر تحقیقات میں شامل ہوں گے۔
اس حوالے سے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے۔ ’ایک طرف ایم پی اے ہے تو دوسری طرف خاتون ہے۔ خاتون کی عزت کا تحفظ اولین ترجیح ہے لیکن ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔‘

 

شیئر: