Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوئٹہ: سرکاری فارم سے کروڑوں روپے مالیت کی 406 بھیڑیں کیسے چھینی گئیں؟

کوئٹہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایک سرکاری لائیوسٹاک فارم سے قیمتی نسل کی سینکڑوں بھیڑیں چھین لی ہیں۔ حکام کے مطابق چھینی گئیں بھیڑوں کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 16 مئی کو ضلع پشین کی حدود میں کوڑائی کیمپ کے علاقے میں پیش آیا جو کوئٹہ سے قریباً 45 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ 
پشین کے تھانہ سلطان میں محکمہ لائیوسٹاک کے افسر ڈاکٹر عبدالمنان کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق چھ مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر آئے اور وہاں موجود دو ملازمین مولا بخش اور غلام اللہ کو یرغمال بنا لیا اور فارم سے 406 بھیڑیں ہانک کر کوئٹہ کے علاقے پنجپائی کے پہاڑی سلسلے کی طرف لے گئے۔ 
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ مسلح افراد نے دونوں ملازمین کو چھوڑ دیا، تاہم بھیڑوں کو اپنے ساتھ لے کر فرار ہو گئے۔
محکمہ لائیوسٹاک کے حکام کے مطابق یہ بھیڑیں قراقل نسل سے تعلق رکھتی ہیں جو اپنی کھال اور سخت موسمی حالات میں برداشت کی صلاحیت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔
محکمہ لائیوسٹاک کے افسر ڈاکٹر عبدالمنان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ماضی میں اس نسل کی کھال سے قراقلی ٹوپیاں (جناح کیپ) تیار کی جاتی تھیں۔‘ 
ان کا کہنا ہے کہ ’اب یہ بھیڑیں زیادہ تر افزائشی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں، عید الاضحیٰ پر انہیں قربانی کے جانوروں کے طور پر بھی فروخت کیا جانا تھا۔‘
ڈاکٹر عبدالمنان نے مزید بتایا کہ یہ جانور مسلخ رینج میں واقع سرکاری فارم میں نیم خانہ بدوش اور پہاڑی طرزِ زندگی کے مطابق رکھے گئے تھے۔ ان کے مطابق ’یہ علاقہ دشوار گزار اور دور دراز ہے۔‘
مسلخ قراقل شیپ بریڈنگ فارم 1980 کی دہائی کے اوائل میں قائم کیا گیا تھا جس کے لیے افغانستان سے قراقل نسل کی بھیڑیں لائی گئی تھیں۔ 
اس منصوبے کا مقصد نئی نسل کی بھیڑوں کو بلوچستان کے خشک اور پہاڑی ماحول میں متعارف کرانا اور اُن کی پیداواری و تولیدی صلاحیتوں پر تحقیق کرنا تھا۔ 
اس منصوبے کے لیے محکمہ لائیوسٹاک نے اس پہاڑی علاقے میں محکمہ جنگلات سے قریباً 36 ہزار ایکڑ پر مشتمل رقبہ لیز پر حاصل کیا تھا۔
محکمہ لائیوسٹاک کے ایک اہلکار کے مطابق یہ بھیڑیں عام بھیڑوں کے مقابلے میں قیمتی ہوتی ہیں اور ان کی قیمت فی جانور ایک لاکھ روپے تک بتائی جاتی ہے۔ اس حساب سے یہ مجموعی طور پر کروڑوں روپے کی مالیت کی ڈکیتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور محکمہ لائیوسٹاک مشترکہ طور پر بھیڑوں کی تلاش کے لیے کوشش کر رہے ہیں جبکہ صوبے کی تمام مویشی منڈیوں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اس سلسلے میں محکمہ لائیوسٹاک کے ملازمین سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔‘

شیئر: