عالمی مارکیٹ میں سونے کی طرح چاندی کی قیمتیں بھی مسلسل اُتار چڑھائو کا شکار ہیں جس کے اثرات پاکستانی مارکیٹ میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔
اسی غیر یقینی صورتِ حال میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران چاندی کی قیمت میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد آج مقامی صرافہ بازار میں یہ قیمتی دھات آٹھ ہزار روپے فی تولہ سے بھی کم قیمت پر فروخت ہوتی رہی۔
چاندی کے نرخوں میں حالیہ گراوٹ کی وجہ عالمی مارکیٹ کے بدلتے رجحانات کے علاوہ جیوپالیٹکس بھی ہے جب کہ پڑوسی ملک انڈیا کی جانب سے چاندی کی درآمد پر عائد عارضی پابندیوں کو بھی اس کی ایک بڑی اور اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
-
زیورات کی خریداری اور سرمایہ کاری، سمگلرز کی نظریں اب چاندی پرNode ID: 897142
زیرِ نظر رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران چاندی کی قیمتوں کا گراف کس حد تک اُتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور حالیہ دنوں میں اس کے نرخوں میں اس اچانک گراوٹ کی بنیادی وجہ کیا ہے، اور کیا یہ عارضی مندی عام سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے؟
سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں چاندی کی قیمت کا گراف حالیہ مہینوں میں کس طرح تبدیل ہوتا رہا۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتِ حال پیدا ہونے سے قبل پاکستان میں عالمی مارکیٹ کے رجحان کو دیکھتے ہوئے چاندی کی فی تولہ قیمت میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور مارکیٹ میں چاندی 18 سے 20 ہزار روپے فی تولہ تک بھی فروخت ہوتی رہی۔
اس وقت پاکستان میں چاندی میں سرمایہ کاری کے رجحان میں غیرمعمولی اضافہ ہوا اور بڑے سرمایہ کاروں سے لے کر عام شہریوں تک، ہر طبقے کے لوگوں نے چاندی میں سرمایہ کاری کی۔

ایف پی سی سی آئی کی سینٹرل سٹینڈنگ کمیٹی آن جیمز اینڈ جیولری کے رُکن اور چاندی کی ٹریڈنگ اور مارکیٹ پر گہری نظر رکھنے والے ماہر انجینئر محمد عدنان قادری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایران امریکہ جنگ سے قبل پاکستان میں چاندی 18 ہزار روپے فی تولہ پر فروخت ہو رہی تھی اور عالمی مارکیٹ میں چاندی 120 ڈالر فی اونس میں بک رہی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو سونے کی طرح چاندی کے نرح بھی کم ہوئے۔‘
انہوں نے اس کی تکنیکی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خطرے نے خام تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے اور جب تیل کے نرخ بڑھتے ہیں، تو سونے اور چاندی کی قیمتیں عارضی طور پر دباؤ کا شکار ہو کر نیچے آ جاتی ہیں اور تیل کی قیمتیں مستحکم ہونے پر ان قیمتی دھاتوں کا گراف دوبارہ اوپر جانا شروع ہو جاتا ہے۔‘
انجینئر محمد عدنان قادری نے مزید بتایا کہ ’اس سے قبل یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں قیمت مزید اوپر جائے گی، مگر مارکیٹ میں اندازوں کے برعکس چاندی کی قیمت کم ہو گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان میں چاندی کی قیمت کم ترین سطح پر ہے اور مارکیٹ میں اس کا موجودہ ریٹ 8 سے ساڑھے 8 ہزار روپے فی تولہ ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں اس وقت چاندی تقریباً 75 ڈالر فی اونس کے حساب سے ٹریڈ ہو رہی ہے۔‘
انڈیا کی جانب سے چاندی کی امپورٹ پر پابندی
انجینئر محمد عدنان قادری نے دیگر بین الاقوامی وجوہات کے ساتھ ساتھ اس نکتے کو بھی تسلیم کیا کہ ’انڈیا چونکہ عالمی سطح پر چاندی اور سونے کا ایک بہت بڑا خریدار ہے، اس لیے وہاں چاندی کی امپورٹ پر عارضی پابندی عائد ہونا بھی چاندی کی مارکیٹ ویلیو کم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔‘

تاہم انہوں نے دیگر وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ’امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ، ایران امریکہ کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتِ حال بھی اس کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔‘
راولپنڈی کے صرافہ بازار میں گزشتہ 25 سال کام کا تجربہ رکھنے والے جیولر راجہ فہیم زرگر کا کہنا ہے کہ ’چاندی کے نرخوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے پسِ پردہ کئی محرکات کارفرما ہیں، جن میں بین الاقوامی سطح پر جنگی حالات، مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں مصنوعی اضافہ اور سونے کے قیمتوں کا دباؤ سب سے نمایاں ہیں۔‘
اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’چند ماہ قبل چاندی کی قیمت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 20 سے 21 ہزار روپے فی تولہ تک پہنچ گئی تھی۔‘
’اس کے بعد مارکیٹ میں تھوڑا سا ٹھہرائو آیا اور قیمت 12 سے 13 ہزار روپے کے درمیان رہی، لیکن اس وقت چاندی کی قیمت دوبارہ اپنی کم ترین سطح پر آ چکی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مارکیٹ میں چاندی کے نرخ آٹھ ہزار روپے کے آس پاس ہی گردش کر رہے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’انہوں نے آج ہی صرافہ بازار میں چاندی کے جو سودے کیے، وہ آٹھ ہزار روپے فی تولہ سے بھی کم قیمت پر طے پائے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چاندی کا ریٹ ہمیشہ سونے کے ریٹ سے جڑا ہوتا ہے۔ سونے کی قیمت اس وقت چونکہ 4 لاکھ 60 ہزار روپے فی تولہ ہو گئی ہے تو اس لیے سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت بھی کم ہو رہی ہے۔‘
چاندی کی 'بلیک مارکیٹ' اور قیمتوں میں مصنوعی اضافہ
راجہ فہیم نے مارکیٹ کے ایک خفیہ پہلو سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’راولپنڈی کے راجہ بازار کی حد تک تو کم از کم چاندی کا بلیک میں کاروبار ہو رہا ہے اور یہاں کوئی باضابطہ یا رجسٹرڈ ڈیلر موجود نہیں ہے۔‘
اُن کے مطابق جب چاندی کی قیمت اوپر جاتی ہے تو لوگ اپنے مقامی برانڈ بنا کر اسے مہنگا بیچنا شروع کر دیتے ہیں اور جب قیمت نیچے آتی ہے تو اسے دوبارہ خریدنا شروع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی چاندی مارکیٹ میں بڑے تاجروں کے اثر و رسوخ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان بڑے تاجروں نے جب اپنی چاندی مہنگے داموں بیچنی ہوتی ہے، تو مارکیٹ میں اس طرح کی افواہیں پھیلا دی جاتی ہیں کہ چاندی آنے والے دنوں میں بہت زیادہ مہنگی ہو جائے گی جس سے متاثر ہو کر عام لوگ دھڑا دھڑ چاندی خریدنا شروع کر دیتے ہیں۔‘
ان کے خیال میں یہ بڑے تاجر ہی اب چاندی کو خود دوبارہ سستے داموں خریدنا چاہ رہے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں مصنوعی طور پر چاندی کی قیمتیں کم کی جا رہی ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمتیں بین الاقوامی سطح پر جنگ کے ماحول کی وجہ سے بھی براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں اور اس عالمی دباؤ کے باعث بھی کم ہوئی ہیں۔‘
کیا اس وقت چاندی میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے؟
عدنان قادری کا اس اہم سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’بالکل، اگر کوئی طویل مدتی یا دور رَس بنیادوں پر سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو اسے چاندی ضرور خریدنی چاہیے، کیونکہ مستقبل میں چاندی کی قیمت ایک لاکھ روپے فی تولہ تک بھی جا سکتی ہے۔‘
انہوں نے اس کی ٹھوس وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’انڈسٹریل مقاصد (صنعتی استعمال) میں چاندی کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور 2027 میں جب الیکٹرک گاڑیاں بڑے پیمانے پر مارکیٹ میں آئیں گی تو ان کی جدید بیٹریوں میں بھی چاندی کا استعمال ہوگا تو اس لیے بھی چاندی کی قیمت آگے جا کر بڑھے گی۔‘
عدنان قادری نے اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا کہ عالمی مارکیٹ کی صورتِ حال اگر ایسی ہی رہتی ہے تو چاندی کی قیمتیں آنے والے چند دنوں میں شاید مزید کچھ گریں، لیکن وہ طویل المدتی دور میں چاندی کی قیمت کو اوپر جاتا ہوا ہی دیکھ رہے ہیں۔

تاہم وہ اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ یہ چاندی میں سرمایہ کاری کرنے کا ایک بہترین اور سنہری موقع ہے اور ان کے خیال میں بھی مستقبل میں چاندی کی قیمت دوبارہ بہت اوپر جائے گی۔
دوسری جانب تاجر راجہ فہیم زرگر نے یہ دلچسپ مشاہدہ بھی شیئر کیا کہ گزشتہ دو تین ماہ کے دوران جب چاندی کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوئی، تو ان کے پاس ایسے بیسیوں عام لوگ آئے جنہوں نے اپنی جمع پونجی سے چاندی میں سرمایہ کاری کی تھی جن میں چھوٹے تاجر اور یہاں تک کہ ریڑھی بان اور سکول و کالج کے طلبہ بھی شامل تھے۔












