Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گوجرہ میں پانچ ہزار روپے کے لیے برہنہ دوڑنے کی شرط اور پھر ایف آئی آر

اس ایف آئی آر میں  پولیس نے دفعہ 294 کا استعمال کیا ہے (فائل فوٹو)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع منڈی بہاولدین کے قصبہ گوجرہ سے ایک ایسا غیر معمولی واقعہ جس نے  عوامی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ 
گوجرہ میں سرگودھا روڈ کے مصروف ترین قینچی چوک پر دوستوں کے درمیان لگنے والی پانچ ہزار روپے کی ایک شرط جس میں برہنہ ہو کر بھاگنا تھا۔ یہ معاملہ اب اب پولیس کے زیر تفتیش ہے۔  پولیس نے برہنہ دوڑ لگانے والے نوجوان اور شرط لگانے والے اس کے تین ساتھیوں کے خلاف تعزیرات پاکستان اور جوا آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر کے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔  
 
اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ 18 مئی کو پیش آیا۔ تھانہ گوجرہ میں درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق قینچی چوک پر  ثمر حیات اور احسان نامی نوجوانوں نے ایک دوسرے کو چیلنج دیا کہ اگر وہ سو فٹ کا فاصلہ بغیر کپڑوں کے دوڑ کر طے کرے تو اسے موقع پر پانچ ہزار روپے نقد دیے جائیں گے۔ ثمر نامی نوجوان نے یہ چیلنج قبول کیا اور دن کے اجالے میں سڑک پر برہنہ دوڑ لگا دی، جبکہ اس کے ساتھیوں میں سے ہی ایک شخص نے اس پورے منظر کی موبائل فون سے ویڈیو بنا کر اسے انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دیا۔ ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی ضلعی پولیس افسر نے معاملے کا نوٹس لیا اور گوجرہ پولیس نے اب مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں
خیال رہے کہ اس ایف آئی آر میں  پولیس نے دفعہ 294 کا استعمال کیا ہے، جو کسی بھی عوامی مقام پر عریانیت یا فحش عمل کا مظاہرہ کرنے پر لاگو ہوتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت اگر جرم ثابت ہو جائے تو عدالت ملزم کو تین ماہ تک قید بامشقت، جرمانہ یا دونوں سزائیں دے سکتی ہے۔ 
دوسری اور سب سے سنگین دفعہ 509 لگائی ہے، جو عام طور پر خواتین کو ہراساں کرنے یا ان کے سامنے ناشائستہ گفتگو اور حرکات کرنے پر لگائی جاتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ اس واقعے میں کوئی خاتون براہ راست مدعی نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ دوڑ ایک ایسی مصروف عوامی سڑک پر لگائی گئی جہاں سے فیملیز اور خواتین گزر رہی تھیں، اس لیے پولیس نے شہریوں کے ذہنی سکون کو پہنچنے والے نقصان کو بنیاد بنا کر یہ دفعہ شامل کی ہے۔ اس دفعہ کے تحت قانون میں تین سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا مقرر ہے۔
اس کیس کا ایک اور اہم پہلو دفعہ 109  کا نفاذ ہے، جو اعانتِ جرم یعنی جرم کے لیے اکسانے سے متعلق ہے۔ قانون کے مطابق جو سزا برہنہ دوڑنے والے نوجوان کو ملے گی، وہی سزا ان دوستوں کو بھی ملے گی جنہوں نے پانچ ہزار روپے کی شرط رکھ کر اسے اس کام پر اکسایا۔ اس کے ساتھ دفعہ 44 بھی لگائی گئی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ پورا واقعہ اچانک پیش نہیں آیا بلکہ تمام ملزمان نے مشترکہ ارادے اور ملی بھگت کے ساتھ اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔
ان دفعات کے علاوہ، معاملے کو مزید سخت بنانے کے لیے پنجاب پریونشن آف گیمبلنگ آرڈیننس کی دفعہ 507 بھی ایف آئی آر کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ چونکہ پاکستان میں کسی بھی قسم کا جوا یا مالی شرط لگانا غیر قانونی ہے، اس لیے پولیس نے پانچ ہزار روپے کے اس چیلنج کو جوئے کی ایک قسم قرار دیا ہے۔ ان دفعات کے تحت شرط لگانے اور اس کا حصہ بننے پر الگ سے قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگر عدالت ان تمام دفعات کے تحت ملنے والی سزاؤں کو بیک وقت برقرار رکھتی ہے تو ملزمان کو کم از کم تین سال سے زائد کا وقت جیل میں گزارنا پڑ سکتا ہے۔
گوجرہ پولیس کے مطابق نامزد ملزمان ثمر حیات اور احسان، جو شاہپور صدر کے رہائشی ہیں، واقعے کے بعد سے روپوش تھےتاہم اب انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو بنانے والے چوتھے شخص کا بھی سراغ لگا رہے ہیں اور بہت جلد تمام ملزمان کو حراست میں لے کر چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا، جہاں اس وائرل ویڈیو کو بطور سب سے بڑا ڈیجیٹل ثبوت استعمال کیا جائے گا۔
 

شیئر: