Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 22 عسکریت پسند ہلاک

فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مسلح افراد کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر 22 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں 17 مئی سے جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو علاقے میں ’خوارج‘ کی موجودگی کی معتبر انٹیلیجنس اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد اس علاقے میں آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
بیان کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بھارت کے زیرِ سرپرستی چلنے والی ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 22 خوارج جہنم واصل کر دیے گئے ہیں۔‘
فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مسلح افراد کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ عناصر علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ شواہد سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان مسلح افراد نے محفوظ راستے کے حصول کے لیے مقامی آبادی کو ڈرایا دھمکایا اور انہیں ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے گھناؤنے اقدامات اور عوامی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔
شیوا اور اس کے گردونواح کے علاقے کو سکیورٹی فورسز نے مکمل طور پر محاصرے میں لے رکھا ہے اور روپوش خوارج کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔
بیان میں عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ وژن عزمِ استحکامکے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف یہ مہم پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

شیئر: