Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: مستونگ سے اغوا ہونے والے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دو اساتذہ بازیاب

ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی چھ زبانوں میں بیس سے زائد کتابیں اور تقریباً 100 تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ (فوٹو: یونیورسٹی آف گوادر)
بلوچستان کے ضلع مستونگ سے اغوا ہونے والے یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر، ان کے  دو ساتھی اور ڈرائیور بازیاب ہوگئے ہیں۔
خیال رہے 13 مئی کو نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے سڑک پر ناکہ بندی کے دوران یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر اپنے دو ساتھیوں اور ڈرائیور سمیت لاپتہ ہو گئے تھے۔
حکام کے مطابق اتوار کو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرازق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، لیکچرار اور وی سی کے پرسنل اسٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد بلیدی اور ڈرائیور حاتم بدل  مستونگ کے علاقے کردگاپ سے بازیاب ہوگئے ہیں۔
تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اغوا ہونے والے کسی کارروائی کے نتیجے میں بازیاب ہوگئے ہیں یا اغواکاروں نے خود انہیں چھوڑ دیا ہے۔
خیال رہے 13 مئی کو جامعہ گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، پرسنل سٹاف آفیسر و لیکچرار ڈاکٹر محمد ارشاد اور ڈرائیور حاتم کے ہمراہ گاڑی میں گوادر سے کوئٹہ جارہے تھے تاہم کوئٹہ پہنچنے سے پہلے ہی ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
مستونگ پولیس کے ضلعی سربراہ ایس پی اللہ بخش نے اس وقت  اردو نیوز کے کوئٹہ سے نامہ نگار زین الدین احمد کو بتایا تھا کہ واقعہ بدھ کی شام کو کوئٹہ سے تقریباً 90 کلومیٹر دور  ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کنڈ عمرانی بدرنگ کے مقام پر پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے این 25 قومی شاہراہ پر پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ یونیورسٹی آف گوادر کے حکام کی گاڑی وہاں سے گزری تو مسلح افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔
مستونگ اور قلات کے سرحدی علاقے گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی کا شکار ہیں جہاں کالعدم بلوچ مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں جو سڑکوں پر ناکہ بندی، مسافروں اور سرکاری اہلکاروں کے اغوا اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہی ہیں۔
تاہم کسی مسلح تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال بھی جامعہ گوادر کے وائس چانسلر کے ڈرائیور کو کوئٹہ میں گاڑی سمیت اغوا کرکے تاوان طلب کیا گیا تھا۔
بازیاب ہونے والے افراد کون ہیں؟
کوئٹہ سے اردو نیوز کے نامہ نگار زین الدین احمد کے مطابق بازیاب ہونے والوں میں شامل ڈاکٹر عبدالرزاق صابر بلوچستان کے معروف ماہرِ تعلیم، محقق، برہوی زبان کے ادیب اور شاعر ہیں۔ ان کا تعلق مستونگ کے علاقے کردگاپ سے ہے جو جائے وقوعہ سے ہی کچھ فاصلے پر ہے۔ وہ 2021 میں یونیورسٹی آف گوادر کے پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے اور تب سے اس عہدے پر فائز ہیں۔
اس سے قبل 2013 سے 2021 تک وہ یونیورسٹی آف تربت کے بانی وائس چانسلر رہے۔ وہ جامعہ بلوچستان میں شعبہ براہوی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، نئی جامعات کے قیام اور براہوی زبان و ادب پر تحقیق کے حوالے سے انہیں پہچانا جاتا ہے۔ شعبہ تعلیم میں خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز بھی دیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی چھ زبانوں میں بیس سے زائد کتابیں اور تقریباً 100 تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے براہوی زبان، بلوچ ثقافت  اور تاریخ کے موضوعات پر اردو، انگریزی، بلوچی، براہوی اور پنجابی میں تحریریں لکھی ہیں جبکہ عربی، جاپانی اور چینی زبانوں میں بھی ان کی تحریریں موجود ہیں۔
انہوں نے جنوبی انڈیا کا ایک سفرنامہ بھی لکھا ہے جس میں بلوچستان میں بولی جانےوالی براہوی زبان اور جنوبی انڈیا کی ریاستوں کیرالہ اور تمل ناڈو میں بولی جانے والی دراوڑی زبان کے درمیان مماثلت اور مشترکہ خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔
بازیاب ہونے والوں میں شامل یونیورسٹی آف گوادر کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد بلوچستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات اور محقق سمجھے جاتے ہیں۔ وہ گوادر، بلوچستان کی معیشت، وسائل کی تقسیم، غربت، وفاقیت، نسلی سیاست، تنازعات اور سی پیک سمیت مختلف موضوعات پر 38 سے زائد مقالے لکھ چکے ہیں۔
اس سے قبل وہ لسبیلہ یونیورسٹی میں شعبۂ معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ سوشل سائنسز کے ڈین بھی رہ چکے ہیں۔
ڈاکٹر منظور احمد نے برطانیہ کی معروف ڈرہم یونیورسٹی سے اکنامکس اینڈ فنانس میں ایم ایس اور ڈویلپمنٹ اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی ہے۔
2022 میں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں اکنامک ایڈوائزری کونسل کا رکن بھی مقرر کیا تھا۔
تیسرے شخص ڈاکٹر محمد ارشاد ہیں جو یونیورسٹی آف گوادر میں وائس چانسلر کے پرسنل سٹاف آفیسر، شعبہ مینجمنٹ سائنسز کے لیکچرار اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ یونیورسٹی آف بزنس مینجمنٹ کراچی سے مینجمنٹ سائسز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ انتظامی امور، معاشیات، سپلائی چین مینجمنٹ اور ادارہ جاتی کارکردگی جیسے موضوعات پر مختلف تحقیقی مقالات بھی لکھ چکے ہیں۔

شیئر: