اسلام آباد میں او آئی سی کی خواتین کے امور پر 9ویں وزارتی کانفرنس کا آغاز
اسلام آباد میں او آئی سی کی خواتین کے امور پر 9ویں وزارتی کانفرنس کا آغاز
اتوار 12 جولائی 2026 12:04
وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کی او آئی سی رکن ممالک کے وزرا اور اعلیٰ حکام سے دو طرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے (فوٹو: وزارت قانون)
پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین کے امور پر نویں دو روزہ وزارتی کانفرنس کا اتوار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آغاز ہو گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے بعد دنیا کے اس دوسرے بڑے فورم کے تکنیکی سیشنز پہلے روز شروع ہو چکے ہیں جبکہ مرکزی وزارتی اجلاس پیر کو منعقد ہو گا۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس کانفرنس کو پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس کے بعد تنظیم کی چیئرمین شپ مصر سے پاکستان کو منتقل ہو رہی ہے اور پاکستان اگلے دو برس کے لیے اس اہم فورم کی صدارت سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
’او آئی سی ممالک میں خواتین کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانا: چیلنجز اور آگے کا راستہ‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں تنظیم کے تمام 57 رکن ممالک کے لگ بھگ 190 سے زائد مندوبین، مبصرین اور وزرا شرکت کر رہے ہیں۔
وزارتِ اطلاعات اور ریڈیو پاکستان کے مطابق 12 اور 13 جولائی کو ہونے والی اس کانفرنس کا بنیادی مقصد مسلم دنیا میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
کانفرنس کے پہلے روز مختلف تکنیکی ورکنگ گروپس کے اجلاس جاری ہیں جن میں مندوبین خواتین کے کردار، ترقی اور انہیں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قومی پالیسیوں کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔
اس موقعے پر وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کی او آئی سی رکن ممالک کے وزرا اور اعلیٰ حکام سے دو طرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے دوران مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پیر کو ہونے والے مرکزی وزارتی اجلاس کا افتتاح وزیرِاعظم کریں گے جو کہ افتتاحی نشست سے خطاب بھی کریں گے۔
اس اہم اجلاس میں مبصرین اور وزارتی وفود کے علاوہ خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک ہوگی جس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر شزا فاطمہ بھی شامل ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کانفرنس کے شاندار انعقاد پر وزارتِ خارجہ کے کلیدی کردار اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سمیت وزارتِ اطلاعات کے بھرپور تعاون کو سراہا۔
اس اہم اجلاس میں مبصرین اور وزارتی وفود کے علاوہ خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک ہوگی (فوٹو: وزارت قانون)
او آئی سی کی یہ وزارتی کانفرنس عام طور پر ہر تین سے چار سال بعد منعقد کی جاتی ہے جس کا مقصد رکن ممالک میں خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت تک رسائی اور صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے خاتمے کے لیے کی جانے والی پیش رفت کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔
اس سے قبل آٹھویں وزارتی کانفرنس سال 2021 میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقد ہوئی تھی جہاں خواتین کے تحفظ اور معاشی خودمختاری پر فوکس کیا گیا تھا۔
معاشی ماہرین اور سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ مسلم ممالک میں خواتین کی معاشی اور سیاسی شراکت داری کو بڑھائے بغیر پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
اقوامِ متحدہ کے گزشتہ تخمینوں کے مطابق معیشت اور عوامی زندگی سے خواتین کو بے دخل کرنے کی پالیسیاں مسلم دنیا سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے اربوں ڈالر کے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
کانفرنس کے اختتام پر ’اسلام آباد اعلامیہ‘ جاری کیا جائے گا جو آئندہ دو برسوں کے لیے مسلم ممالک میں خواتین کو مساوی حقوق دینے اور ان کے حقوق کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع فریم ورک کے طور پر کام کرے گا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بطور چیئرمین خلیج کونسل اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر مسلم امہ میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور خواتین کی ترقی کے لیے احسن انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے پرعزم ہے۔