Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زیارت حملہ: آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی عطاء اللہ دلہا بننے سے ایک ہفتہ قبل مارا گیا

زیارت میں ڈی سی آفس کے سامنے کئی روز سے دھرنا جاری ہے (فوٹو: اُردو نیوز)
بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے ورچوم میں چند روز قبل تک ایک گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ دلہے کے کمرے کو سجایا جا رہا تھا، نئے کپڑے سلوائے جا رہے تھے اور رشتہ داروں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ سب کو 14 جولائی کا انتظار تھا جب 30 سالہ عطا اللہ کی شادی ہونا تھی۔
لیکن شادی سے صرف ایک ہفتے قبل یہ خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ زیارت پولیس میں کانسٹیبل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے عطا اللہ کو ان کے خاندان کے مطابق شادی کی تیاریوں کے لیے لی گئی چھٹیاں ختم کرکے واپس ڈیوٹی پر بلایا گیا جہاں وہ 6 جولائی کو بلوچستان میں ہونے والے حالیہ سب سے مہلک حملوں میں سے ایک کا نشانہ بن گئے۔
حکام کے مطابق کوئٹہ سے تقریباً 60 کلومیٹر دور زیارت کے علاقے کچھ کے قریب مانگی ڈیم فیز تھری واٹر پمپنگ سٹیشن پر شدت پسندوں کے اس حملے میں 30 پولیس اہل کار جان سے گئے۔ ان میں سے 9 اہل کار پہلے دن موقع پر ہی مار دیے گئے جبکہ 21 اہل کاروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔ مقتول اہل کاروں کی لاشیں بعد میں کوئٹہ اور زیارت کے درمیان واقع زرغون غر کے پہاڑی علاقے سے ملیں۔
مقتولین میں سے زیادہ تر کا تعلق زیارت سے ہے۔ واقعے کے بعد زیارت اور کوئٹہ میں سوگ کی فضا ہے۔اس واقعہ میں قتل ہونے والے 9 اہل کاروں کو منگل کو ہی جبکہ  14 اہل کاروں کو جمعرات کو سپردِ خاک کر دیا گیا تاہم 7 اہل کاروں کے لواحقین نے تدفین سے انکار کرتے ہوئے کوئٹہ کے علاقے کوئلہ پھاٹک پر میتوں کے ساتھ دھرنا دے رکھا ہے۔
زیارت میں بھی ڈی سی آفس کے سامنے کئی روز سے دھرنا جاری ہے۔ جمعہ کو زیارت میں اس واقعہ کے خلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
لواحقین زیارت واقعہ کی عدالتی تحقیقات، مقتول اہل کاروں کو قتل کیے جانے سے پہلے ان کے محاصرے کے دوران اسلحہ اور مدد کی فراہمی میں ناکامی سمیت غفلت کا مظاہرہ کرنے والے حکام کے خلاف کارروائی اور  علاقے کو مسلح گروہوں سے پاک کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اس سے قبل کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں اتوار کو شدت پسندوں کی جانب سے ایک پہاڑی گاؤں ببری پر حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت اور 11 کے اغوا کیے جانے کے خلاف بھی دھرنا دیا جا رہا تھا جو پانچ دنوں بعد مغویوں کی بازیابی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے مذاکرات کے بعد جمعہ کی علی الصبح ختم کردیا گیا۔

اس وقت تقریباً 300 کلومیٹر کے پہاڑی سلسلے میں کومبنگ آپریشن جاری ہے (فوٹو: اے پی پی)

ہنہ اوڑک اور زیارت میں پیش آنے والے ان دونوں واقعات کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔
چار شادیوں کے بعد پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹا
عطا اللہ کا تعلق ضلع زیارت کے علاقے منہ سے تھا تاہم ان کے والد مولوی سید نور کی سرکاری ملازمت کے باعث خاندان کئی برس قبل زیارت کے علاقے ورچوم منتقل ہوگیا تھا۔
اہلِ خانہ کے مطابق عطا اللہ بڑی دعاؤں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ ان کے والد کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی اس لیے بیٹے کی خواہش میں انہوں نے چار شادیاں کیں اور اس کے بعد عطااللہ پیدا ہوا۔
عطا اللہ کے پھوپھی زاد بھائی نافع درمان نے بتایا کہ ’عطا اللہ چھ بہنوں کے بعد پیدا ہوا  پھر اس کی مزید دو بہنیں ہوئیں۔ یوں وہ آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور پورے خاندان کا واحد سہارا تھا۔‘
ان کے مطابق عطا اللہ نے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن وہ محنتی نوجوان تھا۔ 2022 میں وہ لیویز فورس میں بھرتی ہوا اور بعد میں لیویز اور پولیس کے انضمام کے بعد بلوچستان پولیس کا حصہ بن گیا۔
سرکاری ملازمت کے ساتھ وہ زمینداری بھی کرتا تھا تاکہ خاندان کے اخراجات پورے کرنے میں مدد کرسکے۔
14 جولائی کو اس کی شادی طے تھی۔ اسی دن اس کی ایک بہن کی بھی رخصتی ہونا تھی کیونکہ خاندانوں کے درمیان وٹہ سٹہ کا رشتہ طے پایا تھا۔ عطا اللہ کی بہن جس گھر بیاہ کر جا رہی تھی، اسی خاندان سے عطاللہ کی دلہن نے بھی آنا تھا۔
نافع درمان کہتے ہیں کہ ‘گھر میں سب سے زیادہ خوش اس کی بہنیں تھیں۔ برسوں سے وہ اپنے اکلوتے بھائی کو دلہا بنتے دیکھنے کا انتظار کر رہی تھیں۔‘
خاندان کے مطابق عطا اللہ نے شادی کی تیاریوں کے لیے جون میں دو ماہ کی چھٹی لی تھی جس کی منظوری ایس پی زیارت نے دی تھی تاہم چند روز قبل انہیں دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آنے کے لیے کہا گیا۔
خاندان کے مطابق عطا اللہ نے شادی کی تیاریوں کے لیے جون میں دو ماہ کی چھٹی لی تھی، جس کی منظوری بھی ہوچکی تھی۔ تاہم چند روز قبل انہیں دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آنے کا کہا گیا۔

ہنہ اوڑک اور زیارت میں پیش آنے والے ان دونوں واقعات کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے (فوٹو: سی آر ایس ایس)

نافع درمان کے مطابق عطا اللہ نے اپنے افسر کو یہ بتایا بھی کہ اس کی شادی چند روز بعد ہے اور گھر میں تیاریاں جاری ہیں لیکن اس کی درخواست قبول نہیں کی گئی۔
ان کا الزام ہے کہ انہیں معطلی کی دھمکی دی گئی جس کے بعد وہ چھٹی ادھوری چھوڑ کر واپس ڈیوٹی پر چلے گئے اور انہیں مانگی ڈیم کے قریب حساس چوکی پر تعینات کر دیا گیا جہاں چند روز بعد ہونے والے حملے میں وہ جان سے گئے۔
‘ہمارے پاس گولیاں ختم ہو گئی ہیں، اب بس دعاؤں میں یاد رکھنا‘
نافع درمان کے مطابق 6 جولائی کو مانگی ڈیم کے قریب چوکی پر حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران عطا اللہ نے آخری مرتبہ اپنی ایک بہن کو فون کیا۔
اس نے کہا کہ ‘ہمارے پاس گولیاں ختم ہو گئی ہیں، کوئی ہماری مدد کو نہیں آ رہا۔ حملہ آور بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہمارے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں، اب بس مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ان کی ابھی بہن سے بات جاری تھی کہ اچانک دوسری طرف سے شور سنائی دیا جیسے کسی نے عطا اللہ کے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا ہو۔اس کے بعد رابطہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔‘
عطاء اللہ کی میت جمعرات کو ورچوم لائی گئی جہاں اسے سپرد خاک کر دیا گیا۔ جس گھر میں چند روز پہلے شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں وہاں اب تعزیت کرنے والوں کا رش ہے۔
نافع درمان کہتے ہیں کہ ’عطا اللہ کی موت نے صرف ایک نوجوان کی جان نہیں لی بلکہ ایک پورے خاندان کا واحد سہارا چھین لیا۔ میرے ماموں اب اکثر اپنے بیٹے کی قبر پر بیٹھے رہتے ہیں۔ اس کی بہنیں گھر میں شادی کے لیے خریدے گئے کپڑے دیکھ کر رو پڑتی ہیں۔‘
ان کے مطابق خاندان کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر عطا اللہ کو منظور شدہ چھٹی مکمل کرنے دی جاتی تو شاید وہ آج زندہ ہوتا۔ یہ کیسی ڈیوٹی ہے جس میں کسی ملازم کو اپنی زندگی کے سب سے اہم کام شادی کے لیے بھی چھٹی نہیں ملتی۔

دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد زیارت اور کوئٹہ میں سوگ کی فضا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

نافع درمان کا کہنا ہے کہ ’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اہل کاروں کو ایسے علاقے میں کیوں تعینات کیا گیا جہاں خطرات موجود تھے؟ وہ اگر کئی گھنٹے محاصرے میں رہے تو انہیں بروقت اسلحہ اور مدد کیوں نہ مل سکی؟‘
‘بھائی کو کپڑوں سے پہچانا‘
کوئٹہ میں میتوں کے ساتھ دھرنے میں شریک زیارت کے رہائشی محمد صابر کے بھائی پولیس اہل کار محمد آصف بھی اس حملے میں مارے گئے۔
محمد صابر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ‘کئی دن پہاڑوں میں رہنے کی وجہ سے لاشوں کی حالت خراب ہوچکی تھی اور حملہ آوروں نے بعض اہل کاروں کے چہرے بھی مسخ کیے تھے جس کی وجہ سے شناخت مشکل ہوگئی۔‘
ان کے مطابق ہم نے اپنے بھائی کو کپڑوں سے پہچانا، جبکہ بعض خاندانوں نے جسم پر موجود نشانات کی مدد سے اپنے پیاروں کی شناخت کی۔
محمد صابر کے مطابق حملہ صبح شروع ہوا اور شام تک جاری رہا۔ ابتدا میں چوکی پر موجود اہلکاروں کی تعداد کم تھی بعد میں مزید اہلکار مدد کے لیے بھیجے گئے جن میں ان کے بھائی بھی تھے لیکن وہ بھی حملے کی زد میں آگئے۔
محمد صابر کا کہنا ہے کہ ‘شام کو ان کے بھائی نے فون پر بتایا تھا کہ گولیاں ختم ہو رہی ہیں اور فوری مدد کی ضرورت ہے۔‘ وہ الزام لگاتے ہیں کہ اہل کار کئی گھنٹے تک اضافی اسلحے اور کمک کے منتظر رہے لیکن بروقت مدد نہ پہنچ سکی۔
ان کے مطابق، اہل کاروں کو ایک ایسے علاقے میں تعینات کیا گیا جہاں خطرات موجود تھے لیکن انہیں مناسب وسائل اور تربیت نہیں دی گئی۔ انہیں ہیلمٹ، بلٹ پروف جیکٹ اور مناسب اسلحے کے بغیر سینکڑوں تربیت یافتہ دہشت گردوں سے لڑنے اور مرنے کے لیے بھیجا گیا۔

بلوچستان حکومت نے زیارت حملے کے بعد واقعے کی تفتیش کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے (فوٹو: اے پی)

محمد صابر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ‘ہم تین دن سے دھرنا دیے ہوئے ہیں لیکن وزیراعظم  کوئٹہ آکر ہم سے ملے بغیر چلے گئے، وزیراعلیٰ اور نہ ہی کوئی دوسری شخصیت ہم سے ملنے آئی ۔میرے بھائی نے اپنے وطن کے دفاع کے لیے جان قربان کی مگر آج ہماری بات سننے والا کوئی نہیں۔‘
‘دہشت گرد آہستہ آہستہ فائرنگ کرکے پولیس اہلکاروں کا گولہ بارود ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے۔‘
دوسری جانب حکومت بلوچستان اور محکمہ داخلہ کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے واقعے سے متعلق جاری بیان میں کہا ہے کہ حملے کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق مانگی ڈیم پوسٹ پر ایک ڈی ایس پی سمیت 35 اہلکار تعینات تھے اور حملے کے خطرے سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر نفری اور اسلحے میں اضافہ کیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق 6 جولائی کو صبح فائرنگ شروع ہوئی، پولیس ہیڈکوارٹر اور ایف سی مسلسل رابطے میں رہے جبکہ بعد میں مزید 35 اہلکاروں پر مشتمل کمک روانہ کی گئی لیکن یہ دستہ بھی حملے کی زد میں آگیا۔
حکومت کے مطابق ایف سی نے فضائی نگرانی، مسلح ہیلی کاپٹر، وی ٹی او ایل ڈرون اور مارٹر فائر کے ذریعے کارروائی کی۔
بابر یوسفزئی کے مطابق دہشت گردوں نے حکمت عملی کے تحت دن بھر وقفے وقفے سے فائرنگ کی  تاکہ پولیس اہلکاروں کا گولہ بارود ختم ہو۔ رات ہونے پر پوسٹ پر براہ راست حملہ کیا۔ اس مقابلے میں 15 حملہ آور مارے گئے جبکہ 9 پولیس اہل کار جان سے گئے اور 3 زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ گولہ بارود ختم ہونے کے بعد بچ جانے والے 28 اہلکاروں نے دو گروپوں کی صورت میں نکلنے کی کوشش کی۔ ڈی ایس پی کی سربراہی میں ایک گروپ محفوظ رہا جبکہ 18 اہلکاروں پر مشتمل دوسرا گروپ دہشت گردوں سے ٹکرا گیا اور ان کے ہاتھوں یرغمال بن گیا۔

6 جولائی کو مانگی ڈیم کے قریب چوکی پردہشت گردوں کا حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا (فوٹو: جیو نیوز)

بابر یوسفزئی کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقے اور دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشات کے باعث ایف سی اور پولیس نے احتیاط سے پیش قدمی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 300 کلومیٹر کے پہاڑی سلسلے میں کومبنگ آپریشن جاری ہے۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ‘کچھ سیاسی عناصر حقائق کے برعکس بیانیہ پیش کر رہے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں نے آخری دم تک بہادری سے مقابلہ کیا اور قوم ان کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔ پولیس اور ایف سی کے اہل کاروں نے اپنے ساتھیوں کی بھر پور مدد کی۔‘
’لاشیں لانے کے لیے چندہ جمع کیا‘
لواحقین کے مطابق حملہ آوروں نے لاشیں ایک پہاڑی علاقے میں پھینکیں جنہیں ہم دو دن تک ڈھونڈتے رہے مگر حکومت کی جانب سے انہیں واپس لانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے  گئے۔ متاثرین کے لواحقین اور علاقے کے لوگ بالآخر خود پہاڑوں پر گئے اور لاشوں کو پہاڑوں سے اتارا۔
مقتولین کے لواحقین میں شامل فرید خان نے بتایا کہ ‘لاشوں کی منتقلی کے لیے حکومت سے گاڑی مانگی گئی لیکن  حکومت نے  اس کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا جس کے بعد متاثرہ خاندانوں نے چندہ جمع کرکے اپنی مدد آپ کے تحت گاڑیاں کرائے پر حاصل کیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ  ’لواحقین نے دو پک اَپ گاڑیوں  میں دس دس لاشوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر ہسپتال تک پہنچایا۔ حکومت کی جانب سے ایمبولنسز بھیجی گئیں  اور یہ شرط رکھی گئی کہ لاشیں ہمارے حوالے کی جائیں تاکہ ہم سرکاری طور پر ان کا جنازہ پڑھیں اور آپ لوگ احتجاج نہ کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جب لاشیں دینے سے انکار کیا تو انہوں نے ایمبولنسز فراہم کرنے سے انکار کر دیا اور ہم نے اسی طرح پک اَپ میں لاشیں ڈال کر ہسپتال تک پہنچائیں۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہسپتال تک  لے جاتے ہوئے بھی جگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں تاکہ لواحقین لاشیں ہسپتال نہ پہنچا سکیں اور پھر احتجاج شروع نہ کرسکیں۔‘
عطا اللہ کے ایک رشتہ دار حبیب الرحمان نے بتایا کہ ’ہمیں عطا اللہ کی لاش کو کوئٹہ سے آبائی علاقے تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کوئٹہ میں سول ہسپتال کے سامنے درجنوں ایمبولینسز موجود تھیں ہم نے انہیں بھاری کرایہ دینے کی پیشکش کی لیکن کوئی بھی ہمارے ساتھ لاش لانے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ ’حکومت نے تمام ایمبولنسز سروسز کو منع کیا تھا تاکہ لواحقین پر دباؤ ڈالا جاسکے اور ان کو میتیں لے کر احتجاجی دھرنے میں شامل ہونے سے روکا جا سکے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’عطا اللہ کی لاش خراب ہو رہی تھی اس لیے ہم نے دھرنے سے واپس آبائی علاقے  لاکر اس کی لاش کی تدفین کر دی۔‘

 اہل کاروں کو ایک ایسے علاقے میں تعینات کیا گیا جہاں خطرات موجود تھے لیکن انہیں مناسب وسائل اور تربیت نہیں دی گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

فرید خان کے مطابق پولیس اہل کاروں کی میتوں کو خرابی سے بچانے کے لیے ایک تاجر نے ایئر کنڈیشن کنٹینر بھیجا تھا۔ پولیس نے اسے بھی کئی گھنٹے تک روکے رکھا اور پھر اگلے دن انہیں دھرنے تک آنے دیا گیا جس کے بعد ہم نے لاشیں اس میں منتقل کردیں۔
اسی حملے میں لورالائی سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار جانداد خان بھی جان سے گئے۔ان کے بھائی ابرار خان کہتے ہیں کہ ‘سب سے مشکل مرحلہ اپنے بھائی کی شناخت کرنا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں کو اگر انہیں قتل کرنا تھا تو کر دیتے مگر چہرہ کیوں مسخ کیا؟ ہم اپنے گھر والوں کو آخری مرتبہ ان کا چہرہ بھی نہیں دکھا سکے۔‘
پہاڑ سے لاشیں اتارنے والوں نے کیا دیکھا؟
حملے میں مارے گئے نو اہل کاروں کی لاشیں اگلے روز جائے وقوعہ سے مل گئی تھیں  لیکن اغوا کیے گئے اہلکاروں کی لاشیں دو روز بعد زرغون غر کے دشوار گزار پہاڑی علاقے منگلہ سے برآمد ہوئیں۔
مقامی افراد کے مطابق لاشیں واپس لانے کے لیے قبائلی عمائدین نے کوششیں کیں اور شدت پسندوں سے رابطہ کیا جس کے بعد چند بزرگوں کو وہاں جانے کی اجازت ملی۔
لاشیں واپس لانے کے عمل میں شریک محمد عظیم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے صرف تین چار بوڑھے افراد ، ایک عالم دین  اور دوتین گاڑیاں لانے کی اجازت ہی دی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ تین دیگر بزرگ افراد کے ساتھ تین پک اَپ گاڑیوں میں وہاں پہنچے۔ راستے میں دس بارہ مسلح افراد نے ہمیں روکا۔ اس دوران مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے باجماعت نماز ادا کرنا شروع کی تو وہاں موجود چند مسلح افراد بھی ہمارے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے۔ نماز کے بعد انہوں نے کہیں رابطہ کرنے کے بعد ہمیں آگے جانے کی اجازت دی اور لاشوں کی جگہ بتائی۔‘
محمد عظیم کے مطابق لاشیں کئی روز پرانی ہونے کی وجہ سے خراب ہو چکی تھیں اور انہیں دشوار گزار راستوں سے اٹھا کر گاڑیوں تک پہنچانا آسان نہیں تھا۔ ہمارے ساتھ موجود چار افراد میں سے ایک ایک ہاتھ سے معذور تھا جس کی وجہ سے باقی تین  افراد بڑی مشکل سے لاشیں گاڑیوں تک لائے اور پھر انہیں ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر واپس روانہ ہوئے۔‘
انہوں نے کہا کہ انہوں نے خوف کی وجہ سے حملہ آوروں سے زیادہ گفتگو نہیں کی۔
لاشیں واپس لانے والوں میں شامل علاؤالدین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق قبائلی عمائدین کی درخواست پر مسلح افراد نے لاشیں ان کے حوالے کر دیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘لاشیں منگلہ کے مقام پر اس قبائلی شخص کے گھر سے ملیں جو مسلح افراد کی دھمکیوں کے باعث اس گھر کو خالی کرکے یہاں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’وہ جب شدت پسندوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے انہیں چائے اور کھانے کی پیشکش بھی کی۔‘
علاؤالدین کے مطابق یہ مسلح افراد پشتو بول رہے تھے تاہم ان کے اندازِ گفتگو سے انہیں ایسا محسوس ہوا کہ یہ مقامی نہیں تھے۔
’ہم ابھی تک والدہ کو نہیں بتا سکے‘
کوئٹہ میں دھرنے میں شریک محمد صابر کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کے لیے سب سے مشکل مرحلہ ابھی باقی ہے۔
ان کے مطابق ان کی والدہ دل کی مریضہ ہیں اور انہیں ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا محمد آصف اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’گھر سے بار بار فون آتا ہے کہ آصف کہاں ہے۔ ہم کبھی کہتے ہیں وہ زیارت میں ہے، کبھی کہتے ہیں تلاش جاری ہے۔‘

حکومت کے مطابق ایف سی نے فضائی نگرانی، مسلح ہیلی کاپٹر، وی ٹی او ایل ڈرون اور مارٹر فائر کے ذریعے کارروائی کی (فوٹو: ای پی اے)

انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ‘ہمیں ڈر ہے کہ والدہ کو اگر حقیقت بتا دی تو شاید وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکیں۔‘
ان کے مطابق آصف کی صرف دو ماہ قبل ہی  منگنی ہوئی تھی ۔وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔
ا ن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پیاروں کی لاشیں پہلے ہی خراب ہوچکی ہیں لیکن ہم انہیں دفنائیں گے نہیں۔ ہمارے ساتھ جو برا ہونا تھا ہوگیا، ہم نہیں چاہتے کہ کل کسی اور کے گھر سے لاش اٹھے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔ اگر آج یہ سوال نہیں پوچھے گئے کہ یہ سب کیسے ہوا تو لاشیں گرنے کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔‘
ہم چاہتے ہیں کہ ’ان مسلح گروہوں کا خاتمہ ہو اور ہمارے پیارے اور خوبصورت زیارت کا امن دوبارہ بحال ہو۔‘
تفتیش ، معاوضے کی ادائیگی اور آپریشن
زیارت حملے کے بعد بلوچستان حکومت نے واقعے کی تفتیش کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جبکہ ایس پی زیارت کو بھی معطل کیا گیا ہے۔
حکومت بلوچستان کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کو پندرہ روز کے اندر واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہنہ اوڑک اور زیارت کے واقعات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے جمعرات کو کوئٹہ کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نے صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں بلوچستان کی مجموعی سکیورٹی صورتِ حال، حالیہ حملوں اور امن و امان کے معاملات کا جائزہ لیا گیا اور اہم اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
محمد صابر کے مطابق ہمیں امید تھی کہ وزیراعظم اور اعلیٰ حکام ہمارے پاس آئیں گے اور ہمارے دکھ درد میں شریک ہوں گے لیکن وہ کوئٹہ آکر واپس چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم کس کے پاس جائیں؟ نہ وزیراعظم ہم سے ملے، نہ وزیراعلیٰ اور نہ کوئی اعلیٰ حکومتی نمائندہ ہمارے پاس آیا۔‘

حکومت نے واقعہ میں مارے گئے پولیس اہل کاروں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

حکومت نے واقعہ میں جان سے جانے والے پولیس اہل کاروں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق سپاہیوں کو ایک کروڑ دس لاکھ روپے جبکہ ایس ایچ او کو ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی ادائیگی کے لیے رقوم جاری کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہنہ اوڑک اور زیارت حملوں کے بعد کوئٹہ سے ملحقہ زیارت اور ہرنائی کے پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن شابان شروع کردیا ہے ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ’مانگی میں پولیس اہل کاروں پر دہشت گرد حملے کے بعد جاری آپریشن شابان کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس کی مشترکہ زمینی و فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں 39 دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’صوبے بھر میں اس دوران مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 75 دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔‘

 

شیئر: