Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کے آبنائے ہُرمز کے اطراف ایران کے میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام پر حملے

صدر ٹرمپ کے مطابق ’امریکہ نے آبنائے ہُرمز میں حالیہ حملوں کے جواب میں ایران کو بہت شدت سے نشانہ بنایا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ نے اتوار کو ایران کے میزائل اور فضائی دفاعی نظاموں پر متعدد حملے کیے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ بات امریکہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے امریکی خبر رساں ادارے ’ایکسیوس‘ کو بتائی۔
اس کے علاوہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے اطراف مختلف مقامات پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ 
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اتوار کو آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرے قشم پر 10 سے زائد میزائل یا دیگر پروجیکٹائل گرے، جس سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور جھڑپوں کا آغاز ہوا۔
قشم ٹاؤن شپ کے گورنر حسین امیر تیموری نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کو بتایا کہ ’اتوار کی دوپہر سے اب تک دشمن کے 10 سے 11 پروجیکٹائل جزیرہ قشم پر گرے ہیں۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’تمام حملوں کا ہدف فوجی تنصیبات تھیں اور ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ’امریکہ نے آبنائے ہُرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں ایران کو بہت شدت سے نشانہ بنایا ہے۔‘
اتوار کے روز سی این این کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے گذشتہ رات انہیں بہت سخت جواب دیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ‘امریکہ اور ایران سنیچر کو ایک معاہدے کے بہت قریب تھے اور وہ قریباً ہر چیز ماننے کے لیے بھی تیار تھے۔‘

ایرانی حکام کے مطابق ’آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم پر 10 سے زائد میزائل گرے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ’پھر اچانک دو گھنٹے بعد ایرانیوں نے ایک ڈرون کے ذریعے ایک بحری جہاز پر حملہ کر دیا۔ ان لوگوں کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’آبنائے ہُرمز تجارتی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بات اتوار کو ’این بی سی نیوز‘ کے پروگرام ‘میٹ دی پریس‘ کو ایک دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
اس صورتِ حال کے باعث دنیا کی ایک انتہائی اہم تیل بردار بحری گزرگاہ ’آبنائے ہُرمز‘ میں جہازوں کی حفاظت کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

شیئر: