Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کسوہ‘ پر خطاطی اور قرآنی آیات، کعبے کی تعظیم سے جڑا عظیم اسلامی ورثہ

قرآنی آیات کی کڑھائی انتہائی نفیس اور فنی مہارت سے کی جاتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
غلاف کعبہ (کسوہ ) پر قرآنی آیات اور عربی خطاطی کو سیاہ ریشم پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کے ذریعے مزین کیا جاتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ صدیوں سے کعبہ مشرفہ کی تعظیم سے جڑے عظیم اسلامی ورثے کی عکاسی کرتی ہے۔
غلاف کعبہ پر قرآنی آیات کی کڑھائی انتہائی نفیس اور فنی مہارت سے کی جاتی ہے، 24 قیراط سونے کے پانی سے تیار کردہ خالص چاندی کے تاروں خالص سیاہ ریشم کے کپڑے پر عربی رسم الخط سے کی گئی کڑھائی کسوہ کو منفرد جمالیاتی و روحانی شناخت دیتی ہے۔
کسوہ کعبہ پرعربی خطاطی ایک مکمل بصری فن کے طور پر نمایاں ہوتی ہے، جہاں قرآنی آیات اور اسلامی خطاطی کے نقوش خوبصورت اور متوازن انداز میں ترتیب دیے جاتے ہیں، جو عربی حروف کے حسن، روانی اور خوبصورتی کو اجاگر کرتے ہیں۔
غلاف کعبہ کے مختلف حصے جن میں پٹی اور بابِ کعبہ کے پردے کو منتخب شدہ آیات قرآنی اور اسلامی عبارات سے مزین کیا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ کی کڑھائی یا کشیدہ کاری میں خطِ ثلث کو خاص اہمیت حاصل ہے، یہ رسم الخط اپنے شاندار انداز، لچک اور عربی حروف کے جمال کو نمایاں کرنے کی بھرپورصلاحیت کی وجہ سے ممتاز مانا جاتا ہے۔
خطاطی کا کام کئی مراحل سے گزرنے کے بعد مکمل ہوتا ہے جن میں ڈیزائنگ، طباعت اور بنائی اور اس کے بعد کڑھائی شامل ہے، تاکہ غلاف کی منفرد بصری شناخت برقرار رہے۔

قرآنی آیات کی کڑھائی کی تیاری کا عمل مہارت طلب مراحل پرمشتمل ہوتا ہے، جس کا آغاز خطاطی اور نقش و نگار کی تیاری سے ہوتا ہے، بعدازاں انہیں کپڑے پر منتقل کیا جاتا ہے اس کے بعد سونے او چاندی کے دھاگوں سے ہاتھ کے ذریعے کڑھائی کی جاتی ہے۔ یہ تمام کام اعلی درجے کی فنی مہارت اور اسلامی بنائی اور کڑھائی کے موروثی فنون کے تجربے کا متقاضی ہے۔
کنگ عبدالعزیز کسوۃ کعبہ کمپلیکس میں غلاف کعبہ ہر سال جدید ٹیکنالوجی اور ماہر سعودی کاریگروں کے ہنر کو یکجا کرکے اعلی ترین معیار کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔

 

شیئر: