Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیویارک انتظامیہ نیتن یاہو کو گرفتار نہیں کر سکتی، وفاقی حکومت کو کرنا چاہیے: ظہران ممدانی

چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ میں نیتن یاہو کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ نیویارک کی شہری انتظامیہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد نہیں کر سکتی تاہم وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس وارنٹ پر عمل کروائے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق منگل کو ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ظہران ممدانی نے اسرائیلی وزیراعظم کو ’جنگی جرائم کا مرتکب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نیویارک میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔
’یہ بات واضح ہے کہ ہمارے پاس اتنا قانونی اختیار نہیں ہے کہ اس وارنٹ پر عمل کروا سکیں، تاہم وفاقی حکومت ایسا کر سکتی ہے اور میں مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کا ساتھ دیتے ہوئے وارنٹ پر عمل کروائے۔‘
اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز  میں ظہران ممدانی نے نیویارک ٹائمز کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا کہ وہ اور شہر کا لیگل ڈیپارٹمنٹ اسرائیلی وزیراعظم کی نیویارک آمد پر ان کی گرفتاری کے حوالے سے مشاورت کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ بنیامین نیتن یاہو کو امریکہ میں موجودگی کے دوران کسی صورت بھی گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
اس پوسٹ میں براہ راست ظہران ممدانی کا کوئی ذکر شامل نہیں تھا۔
ظہران ممدان نے پچھلے برس میئر کے انتخابات کے موقع پر اپنی مہم میں بارہا کہا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو غزہ جنگ میں نیتن یاہو کے کردار کے حوالے سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس پر عمل کرتے ہوئے شہر کی پولیس کو ان کی گرفتاری کا حکم دیں گے۔
تاہم منگل کو جاری ہونے والی ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے اس معاملے میں تمام قانونی راستوں کا جائزہ لیا ہے جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ نیویارک شہر کی انتظامیہ گرفتاری کے وارنٹس پر عمل نہیں کر سکتی۔

عالمی فوجدرای عدالت نے 2024 میں نتین یاہو کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

’میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ نیویارک شہر میں نیتن یاہو کو خوش آمدید نہیں کہا جائے گا نہ ہی کسی اور ایسے جنگی مجرم کو۔‘
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اس پر ردعمل میں کہا کہ ’آپ نیویارک کے شہریوں کی خدمت کے لیے منتخب ہوئے ہیں حماس کے پروپیگنڈے کے لیے نہیں، اپنا کام کیجیے۔‘
عالمی فوجداری عدالت نے 2024 میں بنیامین نیتن یاہو اور دیگر افراد کے غزہ جنگ میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع نے انسانی امداد کی فراہمی کو روک کر ’بھوک کو جنگی ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کیا اور فوجی کارروائی کے دوران جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم دوسری جانب اسرائیلی حکام ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

 

شیئر: