امریکہ قطر میں پھنسے سابق افغان اتحادیوں کو یہ آپشن دینے پر غور کر رہا ہے کہ وہ یا تو جنگ زدہ جمہوریہ کانگو منتقل ہو جائیں یا طالبان کے زیرِ حکومت اپنے وطن واپس لوٹ جائیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ، جس نے امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کو اپنی نمایاں پالیسی بنایا ہوا ہے، نے 31 مارچ کی آخری تاریخ مقرر کی تھی تاکہ قطر میں ایک سابق امریکی اڈے پر قائم کیمپ کو بند کیا جا سکے، جہاں 11 سو سے زائد افغان مقیم ہیں۔
یہ افغان امریکہ منتقل ہونے کے لیے اس اڈے سے پر اپنی جانچ پڑتال کرواتے رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے سے قبل امریکی فورسز کے ساتھ کام کرنے پر افغان طالبان انہیں نشانہ بنا سکتے تھے۔
مزید پڑھیں
شان وان ڈائیور، ایک سابق امریکی فوجی ہیں اور افغان ایواک نامی تنظیم کے سربراہ ہیں جو سابق افغان اتحادیوں کی مدد کرتی ہے، نے کہا کہ انہیں بریفنگ دی گئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانوں کو یہ پیشکش کرنے پر غور کر رہی ہے کہ وہ یا تو جمہوریہ کانگو چلے جائیں یا پھر افغانستان واپس لوٹ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ افغان اس افریقی ملک جانے سے انکار کر دیں گے، کیونکہ وہاں بھی کئی برسوں کی جنگ کے بعد مہاجرین کا بحران موجود ہے، جس میں روانڈا سے جڑی کشیدگی بھی شامل ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’آپ جنگ کے دوران ساتھ دینے والے اتحادیوں کو، جن میں 400 سے زائد بچے بھی شامل ہیں، امریکی تحویل سے نکال کر ایسے ملک میں منتقل نہیں کر سکتے جو خود تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اصل بات یہ ہے کہ انتظامیہ یہ بات جانتی ہے،‘ انہوں نے ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا کہ یہ اقدام مبینہ طور پر لوگوں کو واپس افغانستان بھیجنے پر مجبور کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا کہ جمہوریہ کانگو کو بطور منزل زیر غور رکھا جا رہا ہے، تاہم اس نے کہا کہ امریکہ قطر کے السیلیہ کیمپ سے ’رضاکارانہ آبادکاری‘ کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’کیمپ کی آبادی کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنا ایک مثبت حل ہے، جو ان باقی ماندہ افراد کو افغانستان سے باہر نئی زندگی شروع کرنے کے لیے تحفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ امریکی عوام کی سلامتی اور تحفظ کو بھی برقرار رکھتا ہے۔‘
ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے کہا کہ امریکہ کے افغان اتحادیوں کو جمہوریہ کانگو بھیجنا ’پاگل پن‘ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ان افغانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ان کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد کریں گے، کیونکہ انہوں نے ہماری مدد کی تھی۔‘
’ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے وعدے کو پورا کریں، کیونکہ یہی درست کام ہے، اور اگر ہم اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے تو مستقبل میں اپنی قومی سلامتی کے لیے درکار شراکت داریاں قائم کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔‘
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد افغان امریکہ میں نئے گھروں میں آباد ہو چکے ہیں، اور ان کی بڑی تعداد کسی قسم کے مسائل کا سامنا کیے بغیر وہاں اپنی زندگی گزار رہی ہے۔
یہ پروگرام سابق صدر جو بائیڈن نے شروع کیا تھا، اور ابتدا میں کئی ریپبلکنز نے بھی اس کی حمایت کی تھی، جو عمومی طور پر 20 سالہ افغان جنگ کے آغاز میں اس کے حامی تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت امریکہ کے وسیع تر پناہ گزین آبادکاری پروگرام اور افغانوں کی درخواستوں پر کارروائی روکنے کا حکم دیا، جب گزشتہ سال واشنگٹن میں ایک افغان، جو امریکی انٹیلی جنس کے ساتھ کام کر چکا تھا اور ذہنی دبائو کا سامنا کر رہا تھا، نے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی، جن میں سے ایک ہلاک ہو گیا۔












