Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں تیار کردہ پہلی ہائیڈروجن ٹرین کا افتتاح، ’بجلی بھی پیدا ہو گی‘

انڈین وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ کامیابی صاف، سرسبز اور خود کفیل انڈیا کی تعمیر کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز ملک کی ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین کا افتتاح کر دیا جس کے بعد انڈیا اُن چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے صفر اخراج والی صاف ایندھن ٹیکنالوجی اختیار کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق انڈین ریلویز کی تیار کردہ یہ نیلے رنگ کی ٹرین ہائیڈروجن فیول سیلز کے ذریعے بجلی پیدا کرتی ہے جہاں ہائیڈروجن کو آکسیجن کے ساتھ ملا کر توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ اس عمل میں دھواں خارج ہونے کی بجائے صرف پانی اور بھاپ خارج ہوتی ہے، جو اسے روایتی ڈیزل انجنوں کے مقابلے میں زیادہ ماحول دوست بناتی ہے۔
نریندر مودی نے ’نمو گرین ریل‘ نامی اس ہائیڈروجن ٹرین کو شمالی ریاست ہریانہ میں جند شہر سے سونی پت تک 89 کلومیٹر طویل روٹ پر روانہ کیا، جو دارالحکومت نئی دہلی سے متصل ہے۔
نریندر مودی نے افتتاح کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ کامیابی صاف، سرسبز اور خود کفیل انڈیا کی تعمیر کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے تیار کردہ یہ ٹرین نہ صرف انڈیا کی تکنیکی صلاحیت کی علامت ہے بلکہ دنیا کے لیے ایک مثال بھی ہے۔
12 سو کلوواٹ ہائیڈروجن فیول سیل سسٹم سے چلنے والی ’نمو گرین ریل‘ نے انڈیا کو اُن منتخب ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جن میں جرمنی، جاپان، چین اور امریکہ شامل ہیں، جہاں ریل نیٹ ورک میں زیرو ایمیشن ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
وزارتِ ریلوے کے مطابق 10 بوگیوں پر مشتمل یہ ٹرین 2600 مسافروں کی گنجائش رکھتی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 75 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا میں اس وقت چلنے والی زیادہ تر ہائیڈروجن مسافر ٹرینیں صرف دو یا تین بوگیوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور عموماً مختصر علاقائی روٹس پر چلائی جاتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس ٹرین کو انڈیا میں ہی ڈیزائن، تیار اور اسمبل کیا گیا ہے، جو جدید ریلوے انجینئرنگ میں ملک کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

انڈین ریلویز کی تیار کردہ نیلے رنگ کی یہ ٹرین ہائیڈروجن فیول سیلز کے ذریعے بجلی پیدا کرتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ٹرین کے لیے جند شہر میں ہائیڈروجن ذخیرہ کرنے، ری فیولنگ اور آپریشنل نظام کا خصوصی انتظام بھی قائم کیا گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں انڈیا نے ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، حفاظت میں اضافے اور گنجائش بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
ماحولیاتی ادارے کے ایک ماہر کے مطابق ’نمو گرین ریل‘ کی مقامی سطح پر تیاری فیول سیلز، الیکٹرولائزرز اور ہائیڈروجن ایندھن کی ترقی میں ملکی صلاحیتوں کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ہائیڈروجن کے استعمال کی ایک عملی مثال بھی پیش کرتی ہے۔

شیئر: