Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا نے اپنے پہلے نجی آربیٹل راکٹ کو کامیابی سے لانچ کر دیا گیا

انڈیا نے سنیچر کو نجی شعبے کے تحت تیار کیے گئے پہلے آربیٹل راکٹ ’وکرم ون‘ کو کامیابی سے خلا کی جانب روانہ کر کے ملکی خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق یہ راکٹ انڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک نجی کمپنی ’سکائی روٹ ایرو سپیس‘ نے تیار کیا ہے اور اسے آندھرا پردیش میں واقع ’ستیش دھون سپیس سینٹر‘ سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔
راکٹ کی پرواز کے بعد کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ ’ہیلو سپیس، ہم آ گئے ہیں۔ وکرم ون کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل ہوگئی، جو انڈیا کے نجی شعبے کی پہلی کامیاب آربیٹل لانچ ہے۔‘
راکٹ ’وکرم ون‘ تقریباً سات منزلہ عمارت جتنا بلند ہے اور یہ تین سو 50 کلوگرام تک وزنی چھوٹے سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انڈین حکومت کے ’انڈین نیشنل سپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر‘ کے چیئرمین پون گوئنکا نے کہا کہ ’پہلی ہی آربیٹل لانچ کی کامیابی توقعات سے کہیں بڑھ کر ہے اور یہ انڈیا کے نجی خلائی صنعت کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔‘
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس کامیاب مشن کو انڈیا کے خلائی سفر کا ایک ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت نئی راہیں کھول رہی ہے اور جدت کی رفتار کو تیز کر رہی ہے۔ یہ کامیابی نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے اور بے خوف ہو کر نئی ایجادات کرنے کی ترغیب دے گی۔

’وکرم ون‘ اپنے ساتھ کیا لے کر کیا گیا؟

’وکرم ون‘ اپنے ساتھ مختلف سائنسی اور تجرباتی پے لوڈز خلا میں لے کر گیا، جن میں لیبارٹری میں تیار کیا گیا ایک ہیرا، خلائی ملبہ ہٹانے کی صلاحیت رکھنے والے روبوٹک بازو، اور 18 قیراط سونے سے تیار کردہ ایک چھوٹا راکٹ شامل ہے۔
اس سونے کے راکٹ پر انڈیا کے معروف سائنس دان وکرم سارا بھائی، سی وی رامن اور سابق صدر و ممتاز ایرو سپیس انجینئر اے پی جے عبدالکلام کے ننھے مجسمے نصب کیے گئے ہیں، جو انڈیا کے خلائی اور سائنسی ورثے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

انڈیا نے سنہ 2020 میں خلائی شعبہ نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کے بعد اس میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انڈیا کی خلائی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے

انڈیا نے سنہ 2020 میں خلائی شعبہ نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کے بعد اس میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس وقت ملک کی خلائی معیشت کا حجم تقریباً 8.4 ارب ڈالر ہے جبکہ چار سو سے زائد خلائی سٹارٹ اپس مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ ’اس کامیابی سے انڈیا کی خلائی امنگیں نئی بلندیوں تک پہنچ گئی ہیں۔‘
سابق اسرو چیئرمین کے سیون نے بھی نجی خلائی کمپنیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’راکٹ ٹیکنالوجی خلائی صنعت کا سب سے پیچیدہ شعبہ ہے، اور اگر ایک انڈیای اسٹارٹ اپ اس میدان میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے تو اس سے نہ صرف مزید نوجوانوں کو حوصلہ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر انڈیا کی ساکھ بھی مزید مضبوط ہوگی۔‘
واضح رہے کہ اگست 2023 میں انڈیا چاند پر بغیر انسان بردار خلائی جہاز اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک بنا تھا، جبکہ اب پہلی نجی آربیٹل راکٹ لانچ کے ذریعے اس نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا۔

شیئر: