Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مینگو باسکٹ‘: مکہ میں آم کا پہلا درخت کب لگایا گیا تھا؟

مکہ مکرمہ ریجن میں القنفذہ کا علاقہ مملکت میں بہترین آموں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، جہاں تقریباً تین ہزار آموں کے باغات موجود ہیں۔
القنفذہ میں آم کے 5 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ درخت ہیں جبکہ سالانہ پیداوار 52 ہزار ٹن سے زائد ہے۔ پہلی مرتبہ یہاں آم کے درخت تقریباً 50 سال پہلے لگائے گئے تھے۔ 
سعودی کاشتکار عبداللہ حسین نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ ان کے والد کاشتکاری سے منسلک تھے اور وہ مکئی، تل اور باجرہ وغیرہ کی کاشت کیا کرتے تھے۔
’مجھے ان اجناس کی کاشت کا کوئی شوق نہیں تھا۔ میری سوچوں میں ابتدا سے آم کے باغات کا منصوبہ تھا، جس کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آم کی کاشتکاری کے حوالے سے ریڈیو پروگرام کے علاوہ زرعی نمائشوں میں بھی بہت کچھ سن چکا تھا۔ اور القنفذہ میں ہونے والے مینگو فیسٹول میں بھی اسی وجہ سے شرکت کی۔‘

عبداللہ حسین نے اپنے شوق کو عملی شکل دینے کے لیے والد کے فارم کے ساتھ ملحقہ اراضی پر آم کی کاشت کا آغاز کیا۔
فارم کا آغاز 500 پودوں سے کیا گیا جن میں ٹام، انڈین مینگو، مصری اور دیگر اقسام کے دیسی آم کے پودے بھی شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں انواع و اقسام کے آموں کی کاشت شروع کی گئی، مگر کچھ برس بعد یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ بعض درخت فصل دینے کے بعد سوکھ جاتے تھے۔
’یہ ہمارے لیے ایک چیلنج تھا، جس پر کافی غور کیا گیا اور سوکھ جانے والے درختوں کو اکھاڑ کر ان کی جگہ متبادل پودے لگائے گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ گرین سعودی وژن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہر قسم کی کاشتکاری کی جائے جس میں پھول، پودے اور پھل دار درخت سب شامل ہوں۔
عبداللہ حسین، اپنے علاقے القنفذہ کو سرسبز اور مثالی ’مینگو باسکٹ‘ بنانے میں کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

 

شیئر: