ڈاکیے کا ثقافتی ورثہ، جب خط کے انتظار میں امیدیں جُڑی ہوتی تھیں
اتوار 26 جولائی 2026 0:02
ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط کو سفید لفافوں میں بند کر دیا جاتا تھا ( فوٹو: ایس پی اے)
آج کل کے جدید اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے دور سے پہلے، ڈاک کا نظام لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا مرکزی طریقہ ہوا کرتا تھا جہاں ڈاکیا، صرف خبروں ہی کو ہی نہیں بلکہ خط بھیجنے اور وصول کرنے والوں کی امیدوں اور آرزؤں کو ایک سے دوسرے فرد تک پہنچانے کا اہم ذریعہ تھا۔
سنہ 1926 میں سعودی پوسٹ کا قیام عمل میں آیا جو جلد ہی مملکت کے کونے کونے میں روز مرہ زندگی کا جزوِ لازم بن گیا۔
ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط کو سفید لفافوں میں بند کر دیا جاتا جن کے کناروں پر سرخ اور نیلی دھاری ہوتی تھی۔ اِن لفافوں پر یادگاری ٹکٹیں لگی ہوتیں جو سعودی تاریخ کے اہم لمحات کی یادگار ہوتی تھیں۔
خط بھیجے والوں کے پاس، خط بھیجنے کے لیے عام ذرائع اور رجسٹرڈ میل دونوں ذرائع دستیاب ہوا کرتے تھے۔ رجسٹرڈ میل سے نہ صرف خط کے بارے میں پتہ چل جاتا کہ وہ کہاں تک پہنچا ہے بلکہ یہ خدمت، اِس بات کی ضمانت بھی ہوا کرتی تھی کہ خط اپنے پتے پر ضرور پہنچے گا۔
ڈاکیے کی اہمیت صرف خط لانے والے شخص کی نہیں ہوتی تھی جو یونیفارم پہنے، چمڑے کا بیگ تھامے بائیسکل پر سوار خط کو پتے پر پہنچایا کرتا تھا۔ ڈاکیا، ثقافت کی روایتی علامات ہوا کرتا تھا جس سے لوگ ایک طرح کی چاہت رکھتے تھے۔۔۔ جس کے خط کے انتظار سے شاعروں کی امیدیں جُڑی ہوتی تھیں اور جو عوام کی مقبول ترین یادوں میں رہا کرتا تھا۔

فہد الجبہان، حدودِ شمالیہ کے علاقے میں سعودی پوسٹ کے سابق ملازم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ قدیم تجارتی اور کاروانوں کے راستوں پر واقع تاریخی گاؤں اہم ترین سٹاپ ہوا کرتے تھے۔
آج یہ مقامات، شمالی سعودی عرب میں پیغام کو ایک شخص سے دوسرے تک پہنچانے کے ابتدائی طریقوں کی زندہ یاد ہیں اور ہاتھ سے لکھے ہوئے ہر خط سے پیوست ایک گہری جذباتی وابستگی کی علامت ہیں۔
