میقات الجحفہ میں 1700 سے زیادہ تاریخی نوادرات دریافت: سعودی ہیریٹیج کمیشن
سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ساتھ آثارِ قدیمہ کی تلاش کے مشترکہ سائنسی مشن کا پہلا سیزن مکمل کر لیا ہے۔
اس مشن میں میقات الجحفہ کی قدیم سائٹ سے 1700 سے زیادہ نوادرات دریافت کیے گئے ہیں جن میں مٹی کے برتن، شیشہ، پتھروں کے ٹکڑے، صدف اور ہاتھ سے بنی ہوئی دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دریافت سے اِس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مصری حجاج کے سفر کے تاریخی راستے پر واقع اِس قدیم مقام کی بہت اہمیت رہی ہے۔
میقات الجحفہ سے ہونے والی دریافتوں میں کئی ایسی متنوع چیزیں شامل ہیں جو روز مرہ استعمال کی ہیں۔ اِن میں چھ ایسی بھٹیاں بھی ملیں ہیں جن میں مٹی کے برتن پکائے جاتے تھے۔ اِسی طرح ایک نالہ بھی دریافت ہوا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اِس کے بہتے پانی سے زائرین اور مسافر پیاس بجھایا کرتے تھے۔
کھدائی کے دوران مقبروں کے 13 کتبے بھی ملے ہیں ہیں جن کا تعلق بنو امیہ اور بنو عباس کے دورِ اقتدار سے ہے۔ کچھ اشیا بلادِ شام سے تعلق رکھتی ہے تو کچھ کا سلسلہ مصر اور ایتھوپیا تک پہنچ جاتا ہے جس سے یہ بات اجاگر ہوتی ہے کہ اُس زمانے میں زائرین اور حجاج جو اِس میقات سے گزرتے تھے، اُن کا تعلق مختلف ممالک سے تھا۔
الجحفہ میقات، مکہ کے شمال مغرب میں 187 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے اسلام کے ابتدائی زمانے ہی سے مسلمہ میقات تسلیم کیا جاتا ہے جس کی نسبت پیغمبرِ اسلام کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت سے ہے۔

خیال ہے کہ یہ مقام دوسری صدی ہجری میں بامِ عروج پر تھا اور یہاں پانی کی سہولتیں، بازار اور مکہ اور مدینہ کے زائرین کے لیے دیگر چیزیں دستیاب ہُوا کرتی تھیں۔
یہ دریافتیں، ہیریٹیج کمیشن کی آثارِ قدیمہ کے ایسے مقامات کو دستاویزی شکل دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان اُس راستے پر واقع ہیں جسے پیغمبرِ اسلام نے ہجرت کے لیے منتخب کیا تھا۔

اِس مشن کے دوران جدید ٹیکنالوجیوں کو استعمال کیا گیا تاکہ مملکت کی تاریخی اور تہذیبی گہرائی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم ہو سکیں۔