سعودی عرب کے قدرتی لینڈ سکیپ ماحولیاتی سیاحت کی عالمی منزل
تمام اقدامات جنگلی حیات کے تحفظ کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں ( فوٹو ایس پی اے)
سعودی عرب میں جنگلی حیات کے قومی مرکز (این سی ڈبلیو) نے کہا ہے کہ مملکت اپنے محفوظ علاقوں کو ماحولیاتی سیاحت کی عالمی منزل کی حیثیت میں سامنے لا رہی ہے لیکن اس سلسلے میں ہر فیصلہ جنگلی حیات کے تحفظ کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔
مرکز کے ایک ترجمان نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مملکت، ماحولیاتی سیاحت کے شعبے کی بنیاد سائنسی اصولوں پر رکھ رہی ہے جس میں ماحولیاتی نظام کی حفاظت کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ مملکت کے اقدمات میں مقامی کمیونٹیوں کی معاونت بھی اہم ہے جس سے معاشی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔‘
ترجمان نے کہا کہ ’اس عمل میں قدرتی مناظر سب سے اہم حیثیت رکھتے ہیں اور محفوظ علاقوں میں کوئی سیاح اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اُس علاقے کا ماحولیاتی جائزہ مکمل نہ ہو چکا ہو۔
ان نتائج کی بنیاد پر حکام یہاں آنے والوں کے راستوں کا تعین کرتے ہیں، اُن کی گنجائش کا اندازہ لگاتے ہیں، سیاحوں کے آنے کے اوقات اور ان علاقے کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرتے ہیں جہاں تک انھیں جانے کی اجازت ہے۔ جہاں جنگلی حیات کے مسکن کمزور ہیں یا جب موسم ٹھیک نہ ہو تو ضوابط کو مزید سخت کر دیا جاتا ہے۔
اِن علاقوں میں آنے کے لیے پہلے سے اجازت نامہ لینا ضروری ہے جس میں سیاح صرف اُن ٹریلز پر ہی جا سکتے ہیں جن کا ذکر اجازت نامے میں ہوگا اور ان کے ساتھ تربیت یافتہ گائڈز ہوں گے۔ ماحولیاتی اثرات کی نگرانی مسلسل کی جاتی ہے تاکہ سیاحت کی وجہ سے، جنگلی حیات اور اُس کے مسکن کو نقصان نہ پہنچ سکے۔

مرکز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’مقامی کمیونٹیاں اس ماڈل کی کامیابی میں مرکزی کردار کی حامل ہیں۔ علاقے میں رہنے والوں کو سیاحت سے تعلق رکھنے والی معاشی سرگرمیوں میں بھرپور انداز میں شریک کیا جائے گا۔ گائیڈز کے کام کے لیے افراد کا انتخاب ان میں سے کیا جائے گا۔‘
’اسی طرح ڈرائیور، خدمات فراہم کرنے والے اور عارضی قیام گاہوں کو چلانے والے، روایتی کچن کے مالکان، دستکاری کے سٹال، کھیت، ذرائع نقل و حمل اور سیاحت کے لیے محفوظ علاقوں کے تفریحی دوروں کا انتظام بھی مقامی افراد ہی کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ’پیسہ گھر کے آس پاس ہی رہے‘ اور علاقے کے لوگوں کو معاشی فوائد میں ترجیح ملے اور اُن کی آمدن بڑھے۔‘
نجی شعبے کی طرف سے سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے بشرطیکہ ان کے منصوبے ماحولیات کے لیے مقرر سخت معیار پر پورے اترتے ہوں۔ محفوظ علاقوں میں کسی بھی طرح کا تعمیری کام ہر حال میں ماحولیات جائزے کے بعد کیا جا سکتا ہے اور اس شرط کے ساتھ کہ نئی تعمیر والے ہر مقام کی گنجائش اور قدرتی اور ثقافتی کردار جس میں عمارتوں کی تعمیر کے لیے مقرر دبازت، پانی اور توانائی کا باکفایت استعمال بے مصرف مواد کو ٹھکانے لگانے کے لیے ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد اور ان کی مکمل تعمیل شامل ہے۔

احتیاط کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، محفوظ علاقوں میں مملکت کی طرف سے خطرے سے دوچار جانوروں کی اقسام کے لیے خصوصی ہدایات ہیں۔ ٹریلز کو جانوروں کی افزائش نسل کے مقامات، پانی کے وسائل، خوراک حاصل کرنے کی جگہوں اور جنگلی حیات کی راہداریوں سے دور کر دیا گیا ہے۔ حد سے زیادہ نازک مقامات کو موسموں کے مطابق باڑ لگا کر بند بھی کیا جا سکتا ہے۔
جنگلی حیات کا مرکز سیاحوں کی جانب سے ذمہ دار رویے کے اظہار کے فروغ کے لیے بھی کوشاں ہیں جہاں مقامی سینٹر قائم ہیں، رہنما گائیڈز رکھے گئے ہیں، معلوماتی بورڈ، اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل تشہیر بھی جاری ہے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق کامیابی کی پیمائش محض آنے والوں کی تعداد سے نہیں ہوگی۔ اس مقصد کے لیے سیاحت کے خصوصی تجربات کو وسعت دی جائے گی جن میں ایکو سفاری، ہائکنگ، جنگلی حیات اور پرندوں کا مشاہدہ کرنا، منظم کیمپنگ اور کمیونٹی کو ساتھ ملا کر سیاحت کے انتظامات کیے جائیں گے۔
انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل بکنگ سروسز، تربیتہ یافتہ گائیڈز کی خدمات اور مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں سے شراکت داری کو مزید بہتر بنایا جائے گا جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات اور حیاتیاتی تنوع کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور سعودی عرب کے قدرتی لینڈ سکیپ کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے گا۔
