Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

السرین سائٹ پر بازار اور مسجد کے آثار، نایاب برتن کے ٹکڑے بھی دریافت

سعودی، چینی مشن نے دریافتوں کے حوالے سے نتائج کا اعلان کیا ہے ( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
مکہ ریجن کی کمشنری اللیث میں مشترکہ سعودی، چینی مشن نے آثار قدیمہ کی دریافتوں کے حوالے سے نتائج کا اعلان کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ہیریٹج کمیشن کا کہنا ہے ’السرین ہیریٹج سائٹ‘ پر تیسری صدی ہجری کے آثار دریافت ہوئے ہیں، جن میں ایک بازار کا تعمیراتی ڈھانچہ اور مسجد کے آثار کے ساتھ نایاب برتن بھی ملے ہیں۔‘
یہ سائٹ جزیرہ عرب، مشرقی افریقہ اور اسلامی دنیا کی بندرگاہوں کے درمیان بحری تجارتی رابطے میں اہم کردار کا حامل تھی۔ اپنے منفرد موسمی ماحول کی وجہ سے بھی یہ علاقہ انسانی آباد کاری کے لیے موزوں تھا۔
اللیث کشمنری کے جنوب مغربی حصے میں ایک مسجد کے آثار دریافت ہوئے جہاں کھدائی اور تحقیق کا عمل تاحال جاری ہے۔ آئندہ سیزن میں بھی کام جاری رکھا جائے گا۔
کھدائی کے دوران مختلف نوعیت کی نوادرات سامنے آئے، جن میں مٹی کے برتن، بخور دان، پتھر سے بنے اوزار، عقیق کے ہار اور شیشے کے ٹکڑے شامل ہیں۔
ان کے علاوہ سیپیاں اور جانوروں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں، جو عہدِ رفتہ کے باسیوں کی متنوع معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

یہاں تعمیراتی ڈھانچے کے شواہد بھی ملے ہیں، جن میں رہائش اور اجناس کو ذخیرہ کرنے کےلیے گودام نما کمرے شامل ہیں، علاوہ ازیں شہر کے ارد گرد حفاظتی فصیل بھی دریافت ہوئی، جو اس مقام کو جنوبی، شمالی اور مغربی سمتوں سے گھیرے ہوئے ہے۔
 دریافت ہونے والی دیگر اشیا میں چینی ساختہ مٹی کے ایک برتن کا ٹکڑا شامل ہے، جو شمالی سونگ دور ( 960 تا 1127  960 عیسوی) دور سے تعلق رکھتا ہے۔

اس ٹکڑے پر موجود مہر مکمل طور پر مٹ چکی ہے، تاہم یہ دریافت اسلامی دور میں جنوبی چین اور بحیرہ احمر کے ساحلوں کے درمیان تجارتی روابط کا اہم ثبوت مانی جارہی ہے۔
ہیریٹج کمیشن کا کہنا ہے’ ’السرین ہیریٹج سائٹ‘ پر کام جاری رہے گا، تاکہ یہاں کی تاریخ ، شہری ارتقا اور تہذیبی اہمیت کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔

 

شیئر: