عسیر: جرش سائٹ سے قدیم مکانات اور مٹی سے بنے تنور کے آثار دریافت
سعودی ہیریٹج کمیشن کی جانب سے عسیر میں جرش کی سائٹ پر آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے منصوبے کے سترہویں سیزن کا اختتام ہو گیا ہے۔
یہ منصوبہ کمیش کی اُن کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت قومی ورثے کو محفوظ بنانا، آثارِ قدیمہ سے متعلق معلومات اور فنِ تعمیر کے گوناگوں پہلوؤں کو دستاویزات میں درج کرنا اور مملکت میں پائے جانے والے ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنا شامل ہے۔
جرش میں کھدائی کے دوران دو مخصوص ادوار سے تعلق رکھنے والے رہائشی مکانات کی باقیات بھی ملی ہیں جنھیں پتھروں کو تراشنے کے بعد گارے سے مسالہ بنا کر تعمیر کیا گیا تھا۔
اِن دریافت شدہ گھروں کے ڈھانچے ظاہر کرتے ہیں کہ وہاں غلہ جمع کرنے کے لیے دیواروں میں خاص طور پر طاق بنائے گئے تھے۔
اِس کے علاوہ کھدائی کے دوران مٹی سے بنے ہوئے تنور اور پانی کے حوض بھی دریافت ہوئے ہیں جو اُس عہد کے فنِ تعمیر کی روایات کی کو لوگوں کے سامنے لے آتے ہیں۔
اِن آثار کی دریافت کے علاوہ کھدائی کے دوران انسانی صناعی کے کئی دیگر نمونے بھی ملے ہیں جن میں ہاون دستے میں کوٹنے کے لیے استعمال ہونے والی موگری، چکی کے پاٹ اور شیشے کے برتن شامل ہیں۔

ہیریٹج کمیشن نے اپنے اِس عزم کو پھر دہرایا ہے کہ وہ آثارِ قدیمہ کی دریافت کے لیے کھدائی کے کاموں کو جاری رکھے گا اور اِن کے تحفظ اور دستاویزی بنانے کے کام کو تقویت دے گا۔
اِس اقدام سے سعودی ’وژن 2030‘ سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ہیریٹج کمیشن، مملکت کی ثقافتی میراث کو محفوظ رکھنے کی کوششوں میں معاونت فراہم کرتا رہے گا۔
