Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فخر کی علامت اور ملکیت کا احساس‘: سعودی فٹبال شائقین جرسیوں کی خریداری میں مصروف

عارضی سٹال بھی رنگ برنگے جھنڈوں اور جرسیوں سے سجے ہوئے ہیں۔ (فوٹو: عرب نیوز)
 فیفا ورلڈ کپ 2026 کے شروع ہوتے ہی دنیا بھر فٹبال کے شائقین میں جوش و خروش بڑھ گیا ہے۔ مملکت میں بھی یہی جذبہ جگہ جگہ نظر آ رہا ہے اور فٹبال کے دیوانے اپنی اپنی پسندیدہ ٹیم کی جرسیاں خریدنے کے لیے دکانوں پر جوق در جوق جمع ہو رہے ہیں۔
عرب نیوز نے جدہ کی سپورٹس مارکیٹ میں جا کر دیکھا تو شائقین میں فٹبال کے جذبے کی ایک الگ ہی تصویر نظر آئی۔ دکانیں، شو رُوم، اور سڑک کے کنارے عارضی سٹال بھی مختلف ٹیموں کے رنگ برنگے جھنڈوں اور جرسیوں سے سجے ہوئے ہیں۔
اس سال ہونے والے فٹبال کپ کے لیے سعودی عرب کی ٹیم سبز شرٹ پہنے گی جس کا رنگ مملکت کے ثقافتی ورثے سے متاثر ہو کر چُنا گیا ہے۔
اِسی طرح سپین کے روایتی چمکدار اور شوخ سرخ اور سیاہی مائل نیلے رنگ کی جرسی پر پتلی دھاریاں بنی ہوئی ہیں۔

ارجنٹینا کی ٹیم کی نمائندہ آسمانی اور سفید دھاری دھار شرٹس اورحسبِ راویت برازیل کی مخصوص پیلی اور سبز جرسی دکانوں کے باہر نمایاں کر کے لٹکائی گئی ہیں۔
سپورٹس کی ایک دکان کے سیلز مین خالد سعید نے عرب نیوز کو بتایا کہ’ شائقین اپنی پسندیدہ قومی ٹیموں کی جرسیاں خریدینے کے لیے بےتاب ہیں۔‘
’مانگ بہت زیادہ ہے اور پہلے سے بہتر بھی کیونکہ پرانے دور کی نسبت اب فٹبال کے شائقین کا ذہن بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ کچھ خریدار تو پورے گھرانے کے لیے جرسیاں لے رہے ہیں۔

خالد سعید کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب، ارجنٹینا اوربرازیل کی ٹیم کے رنگوں کی جرسیاں دھڑا دھڑ بِک رہی ہیں۔ اُن کے بعد سپین، پرتگال اور فرانس کا نمبر ہے۔ گزشتہ مہینوں کی نسبت سیلز میں بہت اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے جوں جوں ورلڈ کپ آگے بڑھے گا، مانگ بھی بڑھے گی۔
انیس رفیق بھی ایک دکان پر سیلز مین ہیں اور انھوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ’ اگر گزشتہ ورلڈ کپ سے موازنہ کریں تو اِس برس کے ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ٹیموں سے وابستہ اشیا کی طلب میں تقریباً تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘
انیس کا کہنا تھا کہ ’فٹبال سے منسلک چیزوں کی فروخت عام حالات سے کہیں بہتر ہے۔ ہر روز نئے گاہک آ رہے ہیں اور اب جبکہ ٹورنامنٹ شروع ہو چکا ہے تو چیزوں کی طلب میں بھی اور اضافہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہر ٹیم کے پاس تین طرح کی جرسیاں ہیں: ہوم ٹیم، اووے ٹیم اور پریکٹیس میچ کے لیے الگ الگ جرسی۔ جرسی کی اِن تینوں قِسموں میں دیگر دو جرسیوں کے مقابلے میں ہوم جرسی کو ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔‘
کئی شائقین کے لیے جرسی خریدنا فیشن کے شوق کا اظہار نہیں بلکہ اُس سے کہیں زیادہ ہے یہ فخر کی علامت، شناخت اور ملکیت کا احساس ہے۔
شائقین کھچا کھچ بھرے زون میں ہوں، مقامی کیفے میں یا گھر میں بیٹھ کر میچ دیکھ رہے ہوں، ٹیموں کے پرستار اپنے اپنے ملکوں اور اپنی اپنی ٹیموں کے ساتھ جُڑے رہنا چاہتے ہیں۔

39 برس کے محمد الحکبانی کا کہنا ہے ’ہم سعودیوں کے لیے، یہ تو اِس ملک سے وفاداری کا معاملہ ہے جو ہمارا وطن ہے۔ میں نے سعودی فٹبال ٹیم کی نئی شرٹ اپنی تمام بیگمات اور بچوں کے لیے بھی خریدی ہے۔ ہمیں اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانا ہے اور ہم جہاں بھی جائیں گے، یہی شرٹس پہن کر جائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ باقی سعودی شہری بھی اِن دنوں ایسا ہی کریں گے۔
سعودی قومی ٹیم اِس سال کے ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ منگل کو کھیلے گی ’اور سبز رنگ پہننا ورلڈ کپ کے تجربے کا لازمی حصہ ہے۔

دریں اثناء مصر سے تعلق رکھنے والے عادل منصور کہتے ہیں ’میں مصر کی ٹیم کو سپورٹ کر رہا ہوں۔ ورلڈ کپ کے میچ سے قبل مصر کی جرسی پہننا فخر کی بات ہے۔ ہم اس ٹونامنٹ کے دوران اپنی پسند کی ٹیموں کی جرسی پہنچ کر میچ دیکھیں گے۔
جرسیاں اور جھنڈے نہ صرف سپورٹس مارکیٹس میں فروخت ہو رہے ہیں بلکہ فیشن گھروں اور پورے شہر میں سڑک کے کنارے عارضی طور پر لگائے گئے سٹالوں پر خریدے جا رہے ہیں۔

 

شیئر: