سعودی عرب کے سرحدی علاقے پر حوثیوں کے حملوں میں 11 افراد زخمی
زخمیوں میں سات سعودی ، دو مصری ،ایک یمنی اور پاکستانی شہری شامل ہیں( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کے نجران ریجن کے جنوبی سرحدی علاقے پر جمعرات کو حوثیوں کے حملے میں سعودی شہریوں اور غیر ملکیوں سمیت11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے حمایت یافتہ گروپ کی جانب سے یمن میں حکومتی فورسز پر 2022 کے بعد سب سے مہلک حملوں کے چند گھنٹوں بعد یہ کارروائی کی گئی۔
ایس پی اے کے مطابق یمن میں سعودی زیر قیادت اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا ’ زخمیوں میں 7 سعودی شہری جس میں ایک خاتون اور چار سالہ بچہ، دو مصری، ایک یمنی اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔‘
ترجمان نے کہا ’جمعرات کی رات حوثیوں کی جانب سے نجران کے شہری علاقوں پر اندھا دھند شیلنگ کی گئی، شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
اتحادی فوج کی مشترکہ کمان شہریوں کے تحفظ کے لیے ان دہشت گردانہ جارحانہ کارروائیوں کے خلاف ’تمام اقدامات‘ جاری رکھے گی۔
حوثیوں نے یمن کے مارب اور حضر موت گورنریٹس میں فوجی کیمپوں کو بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد سعودی سرحد پرحملہ کیا۔
اے ایف پی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ان حملوں میں کم از کم 58 سرکاری فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ 2022 کے بعد یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرکاری فورسز کے خلاف سب سے مہلک حملہ ہے۔
اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے سعودی عرب کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔ مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ حملے یمن کی سکیورٹی صورتحال میں تیزی سے بگاڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، حوثیوں نے یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع کو وسیع تر علاقائی تصادم میں گھسیٹ لیا ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا، جو دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے بیشتر حصے پر قابض ہے، نے اس وقت نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جب یمنی حکومت نے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر حملے کرکے ایک ایرانی طیارے کو اترنے سے روکا۔
اس کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا اور سعودی بندر گاہوں کی بحری ناکہ بندی کرنے کا دعوی کیا۔
2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد سے حوثی، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، اس جنگ میں اب تک لاکھوں افراد متاثر جبکہ لاکھوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ دنیا کے بد ترین بحرانوں میں سے ایک نے جنم لیا۔