مملکت میں بڑی سکرینیں نصب، ’فٹبال کا جنون دیکھنے والا ہوگا‘
اتوار 14 جون 2026 11:06
خالد خورشید -اردو نیوز، جدہ
سعودی فینز اپنی ٹیم کے لیے پرجوش دکھائی دے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی مملکت میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر طرف جشن و فیسٹیول کا سماں نظر آ رہا ہے۔
ہر عمر کے افراد فٹبال کے بخار میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں جبکہ کھیل کے لیے غیرمعمولی جوش و جذبہ جگہ جگہ نمایاں ہے۔ جدہ سمیت تمام شہروں میں ورلڈ کپ میچز دکھانے کے لیے عوامی مقامات، کیفے اور مالز میں بڑی بڑی سکرینیں نصب ہیں۔
جدہ میں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی طالبہ نورہ القاضی بھی ورلڈ کپ کے حوالے سے بہت پر جوش ہیں اور سعودی ٹیم کے میچز کی شدت سے منتظر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’فیفا ورلڈ کپ، دنیا کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہے۔ یہ مختلف قوموں، ثقافتوں اور شائقین کو یکجا کرتا ہے جس سے ایک منفرد عالمی جشن کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔‘
انہوں نے سالم الدوسری کو سعودی ٹیم کا سٹار پلیئر قرار دیا اور کہا کہ وہ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے خلاف فیصلہ کن گول کرنے کے بعد سے قومی ہیرو بن گئے تھے۔
نورہ القاضی کے مطابق ’مملکت خصوصاً جدہ میں ورلڈ کپ کے حوالے سے نوجوان پُرجوش ہیں اور یونیورسٹیوں میں بھی یہی ماحول ہے۔‘
سٹیڈیم کے اندر میچ دیکھنے کا لطف اپنی جگہ، لیکن جدہ میں جگہ جگہ ورلڈ کپ کے میچز دیکھنے کے لیے انتظامات ہیں۔ اس ماحول نے اُن لوگوں کو بھی جو عام طور پر فٹبال میں دلچسپی نہیں رکھتے، پُرجوش اور متحرک کر دیا ہے۔
نسرین الشرايتي جو سعودی یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی میں فائنل ایئر کی طالبہ ہیں، کا کہنا ہے ’فیفا ورلڈ کپ ایک ایسا عالمی ایونٹ ہے جو لوگوں کو اپنی ٹیم پر فخر کرنے اور کھیلوں میں زیادہ دلچسپی لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘

ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹس کے باعث لوگوں کی سپورٹس میں دلچسپی بڑھتی ہے، مختلف ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔
انہوں نے سعودی سٹار سالم الدوسری کو اپنا پسندیدہ پلیئر قرار دیا کیونکہ وہ اپنی مہارت، محنت اور قومی ٹیم کے لیے شاندار کارکردگی کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
یوسف عبدالرحمن خلیل ساتویں جماعت کے طالبعلم ہیں، سعودی کلب الاتحاد کے سپورٹر ہیں۔ خود بھی فٹبال پلیئر ہیں اور الریاض سکول سے منسلک’ بلینکز‘ میں انڈر 14 کے لیے کھیلتے ہیں۔
فٹبال میچز کو باقاعدہ فالو کرتے ہیں اور انٹرنیشنل لیگ میں ریئل میڈرڈ کو سپورٹ کرتے ہیں۔ سعودی نیشنل ٹیم کے ورلڈ کپ میچوں کے منتظر ہیں۔
ان کا کہنا ہے ’سکول کی تعطیلات کے باعث دوستوں نے ایک ساتھ میچز دیکھنے کا پرو گرام بنایا ہے۔ والد بھی فٹبال میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے ساتھ فٹبال کی اپ ڈیٹس ہی زیادہ تر ڈسکس ہوتی ہیں۔‘

سعودی شہری ڈاکٹرعبدالرحمن خلیل کنگ فہد آرمڈ فورسز ہسپتال جدہ میں آنکولوجی کنسلٹنٹ ہیں، کا کہنا ہے کہ ’ورلڈ کپ کے موقع پر مملکت میں ایک خوشگوار اور پُرجوش ماحول ہوتا ہے۔ اب بھی ایسا ہی ماحول دیکھنے میں آرہا ہے، جبکہ مختلف تقریبات اور خصوصی آفرز بھی اس ایونٹ کی رونق میں اضافہ کرتی ہیں۔‘
ڈاکٹرعبدالرحمن پر امید نظر آئے کہ سعودی ٹیم اپنے گروپ میں دوسرے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔
’اس مرتبہ سعودی ٹیم کے پلیئرز کو سعودی لیگ میں سٹار انٹرنیشنل پلیئرز کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا ہے۔ یقیناً ورلڈ کپ میں انہیں اس تجربے کا فائدہ ہوگا۔‘
کپتان سالم الدوسری سے ہماری بہت توقع ہے، اسی طرح سعود الحمید گرین فالکنزکے سٹار پلیئر ہیں۔ سعودی ٹیم کے موجودہ کوچ سعودی کلب الہلال کے کوچ رہ چکے ہیں، وہ سعودی پلیئرز سے واقف ہیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں تو کہوں گا مملکت میں اس وقت ورلڈ کپ کا بخار ہے۔ بہت جوشو جذبہ ہے۔ انٹرٹینمنٹ بھی ساتھ ساتھ ہے، جگہ جگہ میچ دیکھنے کے یے بڑی سکرنیں لگائی گئی ہیں۔ سٹیڈیم میں بھی انتظام ہے۔ امید ہے سعودی عرب کے میچز کے دوران یہ مقامات شائقین سے بھرے رہیں گے۔
انہوں نے سعودی عرب کے گروپ میچز کو ٹف قرار دیا۔ یوروگوئے کے بعد سینیگال بھی اچھی ٹیم ہے،جو افریقی نیشنل کپ میں رنر اپ رہی تھی۔ اسی گروپ میں سپین بھی ہے، تاہم دوسرے مرحلے کے لیے ایک میچ جیتنا ضروری ہے۔ پرامید ہیں کہ گرین فالکنز کوالیفائی کرے گی۔

سعودی ٹیم جب میدان میں کھیلتی ہے تو ایک یونٹی دکھائی دیتی ہے۔ سعودی لیگ میں اتحاد اور النصر کے درمیان مقابلہ ہو تو صورتحال مختلف ہوتی ہے مگر جب قومی ٹیم میدان میں آئے تو سب گرین فالکز کو سپورٹ کرتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی شہری تو 2034 میں ہونے والے ورلڈ کپ کی میزبانی کے شدت سے منتظر ہیں۔ سب کی نگاہیں اس جانب ہیں۔ اس وقت سعودی عرب میں فٹبال کا جنون اور جوش و جذبہ دیکھنے والا ہوگا۔
عرب نیوز کے سابق ایڈیٹر انچیف اور معروف سعودی صحافی خالد المعینا نے موجودہ سعودی ٹیم کو انتہائی بیلنس قرار دیا جس میں سالم الدوسری سعود عبد الحمید اور فراس البریکان جیسے پلیئر موجود ہیں۔
’سعودی ٹیم نے گزشتہ ورلڈ کپ میں ارجنٹینا جیسی سخت ٹیم کو شکست دی تھی، اس کے نصف پلیئر موجودہ ٹیم میں ہیں، نوجوان پلیئرز بھی موجود ہیں۔ امید ہے سعودی ٹیم اب بھی اچھی فائٹ کرے گی، کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘