کنگ فیصل ایوارڈ یافتہ پاکستان نژاد سعودی ماہر معاشیات ڈاکٹر عمر چھاپرا کا انتقال
انہوں نے سعودی بینکنگ سسٹم کی تعمیر و تشکیل میں مدد کی (فائل فوٹو)
پاکستان نژاد سعودی ماہر معاشیات ڈاکٹرعمر چھاپرا جدہ میں انتقال کر گئےـ ان کی عمر 93 برس تھی۔
اہل خانہ کے مطابق ان کا انتقال گزشتہ روز ہوا، نماز جنازہ اتوار کو مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں ادا کی گئی۔
ڈاکٹرعمر چھاپرا کا شمار عالم اسلام کے معروف ماہر معاشیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے سعودی بینکنگ سسٹم کی تعمیر و تشکیل میں مدد کی۔ معاشی اور مالیاتی پالیسیاں بنانے میں بھی ان کی خدمات اہم رہیں۔

یکم فروری 1933 کو ممبئی میں پیدا ہوئے اور وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی، قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی میں آباد ہوا۔
کراچی یونیورسٹی سے اکنامکس میں بیچلر اور ماسٹر کیا۔ 1961 میں یونیورسٹی آف مینیسوٹا سے معاشیات اور عمرانیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ مینیسوٹا میں ریسرچ اسسٹنٹ جبکہ وسکونسن اور کینٹکی کی جامعات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی اور تحقیقی خدمات انجام دیں۔
1965 میں انہیں سعودی عرب کی مالیاتی ایجنسی میں مالیاتی مشیر کےعہدے کی پیشکش کی گئی، جس کے بعد وہ مملکت منتقل ہو گئے۔ انہوں نے شاہ فیصل کے دور میں وزیر خزانہ شیخ محمد ابا الخیل کے ساتھ کام کیا۔

سعودی مالیاتی ایجنسی میں تین عشروں تک خدمات انجام دینے کے بعد اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کے اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں ریسرچ ایڈوائزر کے طور پر کام کیا۔ آخری وقت تک تصنیف و تالیف کے کام میں مصروف رہے۔
1990 میں انہیں کنگ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ خدمات کے اعتراف میں سعودی شہریت بھی دی گئی۔
انٹرنیشنل اسلامک اکنامکس کلب نے ایکس اکاونٹ پر لکھا ’ہم ڈاکٹرعمر چھاپرا کے انتقال پر سوگوار ہیں، جو عصری اسلامک معاشیات کے ماہر، اسلامی ترقیاتی بینک اور کنگ فیصل ایوارڈ یافتہ تھے۔ انہوں نے علمی دنیا کو اپنی فکری اور تحقیقی خدمات سے فیض یاب کیا۔‘
