Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے کینسر کا پھیلاؤ: ’مرض مزید اعضاء تک پھیل چکا ہے‘، بیٹے کا انکشاف

ہنٹر بائیڈن کا کہنا تھا ’کینسر پھیل چکا ہے، یہ ان کی ہڈیوں اور اس سے آگے بھی سرائیت کر گیا ہے۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد کا کینسر مزید جسمانی حصوں میں پھیل گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہنٹر بائیڈن نے یہ بات بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
مئی 2025 میں امریکہ کے معمر ترین صدر کے طور پر عہدہ چھوڑنے کے محض چار ماہ بعد، 83 سالہ جو بائیڈن نے بتایا تھا کہ وہ پروپوسٹیٹ کے کینسر کی ایک شدید نوعیت میں مبتلا ہیں اور یہ مرض ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔
اس کے بعد انہوں نے ریڈی ایشن اور ہارمون تھراپی پر مشتمل علاج کا آغاز کیا۔ گزشتہ ماہ اپنی آنے والی آپ بیتی (یادداشتوں) کا اعلان کرتے ہوئے جو بائیڈن نے اس علاج کے بارے میں کہا تھا کہ یہ ’بہت اچھا‘ جا رہا ہے۔
تاہم اس انٹرویو میں ہنٹر بائیڈن نے بتایا کہ علاج کے باوجود ان کے والد کی بیماری میں اضافہ ہوا ہے۔
ہنٹر بائیڈن کا کہنا تھا ’کینسر پھیل چکا ہے، یہ ان کی ہڈیوں اور اس سے آگے بھی سرائیت کر گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’یہ انتہائی دردناک ہے اور کئی لحاظ سے بہت کمزور کر دینے والا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی متحرک ہیں۔ وہ اب بھی اپنے کام انجام دے رہے ہیں... انہیں اس ملک پر اتنا پختہ یقین ہے۔‘
انٹرویو کے دوران اپنے والد کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہنٹر بائیڈن بعض اوقات جذباتی دکھائی دیے۔
انہوں نے کہا ’یہ دیکھنا واقعی بہت مشکل اور انتہائی تکلیف دہ ہے۔‘ 
واضح رہے کہ امریکہ کے مسندِ اقتدار پر فائز رہنے والے معمر ترین صدر ہونے کے ناتے جو بائیڈن کی صحت کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے تاہم 81 برس کی عمر میں انہوں نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں دوسری مدت کے لیے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 
جون 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک ناکام اور مایوس کن صدارتی مناظرے کے بعد، ڈیموکریٹک پارٹی کے شدید اندرونی دباؤ کے باعث بائیڈن صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو گئے تھے۔
بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی جگہ لائی جانے والی ڈیموکریٹک امیدوار اور ان کی نائب صدر کاملا ہیرس کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

شیئر: