Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حی جمیل میں بلیوں کا عالمی دن سنیما اور موسیقی کے ساتھ منایا گیا

سکریننگ اور پرفارمنسز کے ساتھ ساتھ، وزیٹرز نے تخلیقی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا (فوٹو: عرب نیوز)
بلیوں کے عالمی دن کے موقع پر اس ویک اینڈ پر وزیٹرز کی ایک بڑی تعداد نے حی جمیل میں ایک ساتھ انڈیپینڈنٹ سنیما، لائیو تفریح اور کمیونٹی سرگرمیوں کے امتزاج کا لطف اٹھایا جبکہ ساتھ ہی ریسکیو کیے گئے جانوروں کے بارے میں آگاہی اور فنڈز بھی جمع کیے گئے۔
عرب نیوز کے مطابق اس جشن نے حی سنیما کو پالتو جانوروں کے لیے موزوں جگہ میں بدل دیا جس سے شائقین کو اپنی بلیوں کے ساتھ منتخب فلموں کی سکریننگ میں شرکت کا موقع ملا۔
پروگرام میں اکیڈمی ایوارڈ یافتہ اینیمیٹڈ فلم ’فلو‘ اور سراہی جانے والی ڈاکیومینٹری ’کیڈی‘ کی سکریننگ کے ساتھ ساتھ بلیوں سے متاثرہ مختلف سرگرمیاں، لائیو پرفارمنس اور تخلیقی ورکشاپس شامل تھیں۔
یہ تقریب ’حی سنیما‘ کی ان کوششوں کا حصہ تھی جن کا مقصد سنیما کو ثقافتی تبادلے اور کمیونٹی کی شمولیت کے ایک بہترین پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنا ہے۔
آرٹ جمیل کی ہیڈ آف سنیما زہرہ آیت الجمار نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد بلیوں، کہانی نویسی اور انسانی جذبات کے درمیان تعلق کو تلاش کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسا پروگرام مرتب کرنا چاہتے تھے جو سنیما کے مختلف زاویوں سے بلیوں کا جشن منائے۔ منتخب کی گئی فلموں نے نہ صرف بلیوں کی دلکشی اور پراسراریت کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ وہ کس طرح انسانی تعلقات، معاشرے اور جذبات کی عکاسی کر سکتی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مختلف اسلوب اور موضوعات والی فلموں کو یکجا کرکے، ہم چاہتے تھے کہ شائقین ایک ایسا ویک اینڈ گزاریں جو تفریحی ہونے کے ساتھ ساتھ فکر انگیز بھی ہو۔‘
اس ویک اینڈ کی ایک اہم خصوصیت ٹیونس فار ٹونا چیریٹی آرٹس اینڈ میوزک تجربہ تھا، جسے مون ڈسٹ اور ایٹلس نے ترتیب دیا تھا۔ اس میں گیٹ الونگ ود می اینیمل ویلفیئر ایسوسی ایشن کی حمایت کے لیے لائیو پرفارمنسز، آرٹ ڈسپلے، کھانا، خصوصی مرچنڈائز اور بلیوں کو گود لینے کے مواقع شامل کیے گئے تھے۔

 اس ویک اینڈ کی ایک اہم خصوصیت ٹیونس فار ٹونا چیریٹی آرٹس اینڈ میوزک تجربہ تھا (فوٹو: عرب نیوز)

بانی دوحہ نہاس اور مساعد خالد نے بتایا کہ یہ ایونٹ ایک ایسے خیال کی تعبیر تھا جس پر وہ کئی برسوں سے کام کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’ٹونز فار ٹونا دراصل ایک ایسا خیال تھا جو ہمارے ذہن میں 2019 سے تھا۔ ہم ہمیشہ موسیقی کو کسی با مقصد کام سے جوڑنے کا راستہ تلاش کرنا چاہتے تھے، اور جانوروں کی بہبود ہمارے دل کے بہت قریب تھی۔ حی جمیل نے ہمیں وہ جگہ اور تعاون فراہم کیا جس سے بالآخر اس خیال کو عملی جامہ پہنایا جا سکا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس تقریب کے بارے میں جو بات ہمیں واقعی پسند آئی وہ یہ تھی کہ اس میں شامل ہر شخص نے کسی نہ کسی طریقے سے اپنا حصہ ڈالا۔ فنکاروں، رضاکاروں اور منتظمین تمام نے اپنا وقت اور کوشش صرف کی کیونکہ وہ اس مقصد پر یقین رکھتے تھے۔ اس ایونٹ سے حاصل ہونے والا تمام منافع گیٹ الونگ ود می اینیمل ویلفیئر ایسوسی ایشن کو جائے گا۔ اس سے علاج معالجے، سرجریوں، ادویات، روزمرہ کی دیکھ بھال اور جانوروں کو ریسکیو کرنے کی ان کی کوششوں کو جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔‘
منتظمین نے سعودی عرب میں جانوروں کو گود لینے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی اجاگر کیا اور ریسکیو کیے گئے جانوروں کے لیے نئے گھر تلاش کرنے میں آگاہی مہمات اور سوشل میڈیا کے کردار کی طرف اشارہ کیا۔

بانی دوحہ نہاس اور مساعد خالد نے بتایا کہ یہ ایونٹ ایک ایسے خیال کی تعبیر تھا جس پر وہ کئی برسوں سے کام کر رہے تھے (فوٹو: عرب نیوز)

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگ اب گود لینے کے حوالے سے کافی زیادہ مثبت سوچ اختیار کر رہے ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا کی وجہ سے جو ریسکیو کی مزید کہانیاں سامنے لاتا ہے اور لوگوں کو ان جانوروں کے ساتھ جذباتی طور پر جوڑنے میں مدد کرتا ہے جنہیں گھروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب بھی سب سے بڑا چیلنج اس سوچ کو بدلنا ہے کہ پالتو جانور خریدنا کسی طرح گود لینے سے بہتر ہے۔ ریسکیو کیے گئے بہت سے جانور بے حد پیار کرنے والے ہوتے ہیں، انہیں بس کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں ایک موقع دے۔‘
سکریننگ اور پرفارمنسز کے ساتھ ساتھ، وزیٹرز نے تخلیقی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا، جن میں کوئیپر بیڈز کی آرٹسٹ سمیہ سندی کے ساتھ موتیوں سے مچھلی بنانے کی ورکشاپ بھی شامل تھی۔
اپنے دوستوں کے گروپ کے ساتھ تقریب میں شرکت کرنے والی سارہ ابراہیم نے کہا کہ ’ایک ایسی جگہ پر فلم کا لطف اٹھانا ایک منفرد تجربہ تھا جہاں پالتو جانور اور انسان ایک ساتھ اکھٹے ہو سکتے تھے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے جہاں ہم واقعی اپنے پالتو جانوروں کو آزادانہ طور پر لطف اندوز ہونے دے سکتے تھے اور خود بھی ان کے ساتھ لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ مزید برآں، اس طرح کے ایونٹس گود لینے کے بارے میں آگاہی پیدا کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک پرلطف انداز میں کمیونٹی کو قریب لاتے ہیں۔‘

 

شیئر: