Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شمالی کوریا: لوگوں کو گرمی سے نمٹنے کے لیے ’کُتے کے گوشت کا سُوپ‘ استعمال کرنے کا مشورہ

دوسرے ممالک کی طرح اس وقت شمالی کوریا کو بھی کافی سخت گرم موسم کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح اس وقت شمالی کوریا بھی سخت گرمی کی لپیٹ میں تاہم وہاں کی حکومت نے شہریوں کو گرمی سے بچاؤ کے لیے کچھ ہدایات جاری کی ہیں جن میں ’کتے کے گوشت کا سُوپ‘ بھی شامل ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سرکاری میڈیا پر بتایا گیا ہے کہ گرمی سے نمٹنے کے لیے کتے کے گوشت اور چکن کا سوپ بہترین غذا ہے۔
رپورٹس میں کورین رہنما کم جون اون کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ جو عوام کے ساتھ مل کر سخت موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
جمعرات کو سرکاری ٹی وی پر بتایا گیا ک پیانگ یانگ میں درجہ حرات 36 اعشاریہ سات ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے جو دارالحکومت میں گرمی شروع ہونے کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔
ملک میں چند روز سے انتہائی سخت موسم چل رہا ہے اور راتیں بھی بہت حبس زدہ ہیں جس پر سرکاری میڈیا نے عوام کو گرمی سے بچنے سے ہدایت کرتے ہوئے بعض ایسی خوراک لینے کا بھی مشورہ دیا ہے جس کی بدولت بقول شمالی کورین میڈٰیا کے گرمی سے نمٹنے میں آسانی ہوتی ہے۔
ان میں کئی تجاویز شامل ہیں تاہم سب سے زیادہ توجہ ایک ایسے مشورے کو دی جا رہی ہے جس میں ’کتے کے گوشت کے سُوپ‘ کے استعمال کا کہا گیا ہے، جس کے بارے میں کوریا میں یہ روایتی تصور موجود ہے کہ وہ گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
حکمران جماعت کے اخبار ’رودونگ سنمون‘ نے پیانگ یانگ کے ہسپتال سے وابستہ ایک ڈاکٹر کا حوالہ دیتے ہوئےبتایا ہے کہ گرمی سے بچاؤ کے لیے تربوز، کھیرے اور مونگ دال جیسی ٹھنڈی غذائیں استعمال کی جائیں۔
جبکہ دیگر مشوروں میں کہا گیا ہے کہ ’کتے کے گوشت کا سُوپ، مچھلی کا دلیہ اور سرخ لوبیا کا دلیہ بھی گرمی سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے۔
اخبار نے کتے کے گوشت کے سوپ کے حوالے سے ایک الگ مضمون شائع کیا ہے جس میں اس کو موسم گرما کی ایک روایتی غذا قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں برس کے آغاز کے موقع پر ملک میں کتے کے گوشت کی ڈشز بنانے کا قومی سطح پر مقابلہ بھی ہوا تھا۔
شمالی کورین حکومت کی جانب سے اب تک گرمی کی وجہ سے ہونے والی اموات سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں جبکہ پڑوسی ملک جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہاں گرمی کے باعث اب تک 20 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

شیئر: