Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آرامکو کی جازان ریفائنری میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا

ریفائنری کمپلیکس یمن کی سرحد کے قریب جنوب مغربی شہر جازان میں واقع ہے (فوٹو: آرامکو)
سعودی عرب کی وزارت توانائی نے کہا ہے کہ اتوار کی صبح ارامکو کی جازان ریفائنری میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
اتوار کو وزارت توانائی کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’متعلقہ حکام واقعے کے حوالے سے مزید کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں۔‘
بیان میں آگ لگنے کی وجہ، اس کے پھیلاؤ کی حد یا کسی جان و مالی نقصان کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
متذکرہ ریفائنری کمپلیکس یمن کی سرحد کے قریب جنوب مغربی شہر جازان میں واقع ہے جو یمن کی سرحد کے قریب ہے۔ یہ ایک بڑے صنعتی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد اس علاقے کو ایک متنوع معاشی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
جازان ریفائنری کمپلیکس سعودی آرامکو کے اہم منصوبوں میں شامل ہے، جہاں روزانہ چار لاکھ بیرل تک تیل صاف ہوتا ہے۔ یہاں گیسولین اور انتہائی کم سلفر رکھنے والے ڈیزل سمیت مختلف ایندھن تیار کیے جاتے ہیں جبکہ پیٹروکیمیکل کی پیداوار بھی ہوتی جن میں بینزین اور پیرازائلین بھی شامل ہیں۔
یہ ریفائنری ایک بڑے گیسیفیکیشن اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کے ساتھ منسلک ہے جو کم قیمت مصنوعات کو قیمتی میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی اور صنعتی گیسیں بھی پیدا کرتا ہے۔
آرامکو کے مطابق انٹگریٹڈ گیسیفیکیشن کمبائنڈ سائیکل (آئی جی سی سی) پلانٹ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تین اعشاریہ آٹھ گیگا واٹ تک ہے۔
یہ کمپلیکس گیسیفیکیشن ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جس کے ذریعے ریفائنری سے حاصل ہونے والی مصنوعات کو سنتھیسس گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے جس میں کافی مقدر میں ہائیڈروجن شامل ہوتی ہے۔
ہائیڈروجن کو ریفائننگ کے عمل میں ایندھن سے سلفر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا  ہے جس کی بدولت زیادہ صاف گیسولین اور ڈیزل تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔

شیئر: