Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایکشن کمیٹی احتجاج چھوڑ کرجانے والوں کو دھمکا رہی ہے: کشمیر پولیس

راولاکوٹ کے قریبی علاقے دریک عیدگاہ گراؤنڈ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنا کے شرکا جمع ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس نے الزام لگایا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشین کمیٹی کے احتجاجی دھرنا چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس جانے کے خواہشمند شہریوں کو ایکشین کمیٹی کے ارکان ڈرا دھمکا رہے ہیں۔
ترجمان آئی جی کشمیر پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی معصوم افراد کو ورغلا کر اور مختلف لالچ دے کر راولاکوٹ لائی تھی، تاہم اب کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کمیٹی رہنماؤں کے مبینہ مجرمانہ کردار اور شرپسندانہ طرز عمل سے نالاں ہو کر احتجاج ختم کرکے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ احتجاج چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو ایکشن کمیٹی کی جانب سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے  دھمکایا جا رہا ہے کہ اگر وہ مارچ چھوڑ کر واپس جانے کی کوشش کریں گے تو انہیں راستے میں پولیس اور رینجرز گرفتار کر لیں گے اور گولیاں مار دیں گے۔
ترجمان نے کہا کہ احتجاج ختم کرکے گھروں کو واپس جانے والوں کو گرفتار کیے جانے سے متعلق دعوے سراسر بے بنیاد، غلط، جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان کے مطابق پولیس نے راولاکوٹ میں ایسے نوجوانوں اور افراد کی سہولت کے لیے خصوصی مراکز قائم کر دیے ہیں جو اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں، تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور انہیں سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
خیال رہے راولاکوٹ کے قریبی علاقے دریک عیدگاہ گراؤنڈ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنا کے شرکا جمع ہیں۔
راولاکوٹ میں گزشتہ تین روز سے نافذ کرفیو اور آمد و رفت پر پابندیاں برقرار ہیں جبکہ پورے خطے میں مسلسل 10 روز سے موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔ سنیچر کی شام سے راولاکوٹ میں موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر کام کر رہی ہے۔
گزشتہ دو دن سے راوالاکوٹ کے دھرنوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ مقامی خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی سفید جھنڈے اٹھائے احتجاج میں شریک ہیں۔

شیئر: