Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر میں احتجاج کا چھٹا روز: مذاکرات کے لیے ریاست سے وفاداری اور اطاعت شرط ہے، خواجہ آصف

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے واضح کیا ہے کہ خطے میں امن و امان کی بحالی اور مذاکرات کے آغاز کے لیے ریاست کی حاکمیت کو تسلیم کرنا اور آئینِ پاکستان سے وفاداری پہلی شرط ہے جبکہ دوسری جانب راولاکوٹ اور مظفرآباد سمیت مختلف علاقوں میں صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے اور اتوار کو دریک عیدگاہ گراؤنڈ کے قریب تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں مظاہرین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے آغاز کے لیے ریاست کے ساتھ ’وفاداری‘ اور اس کی مکمل فرمانبرداری کا مظاہرہ کریں۔
وزیرِ دفاع نے لکھا ’آزاد کشمیر کے کچھ بہکے ہوئے بھائی جو آج کل کسی (خاص) ایجنڈے پر چل رہے ہیں، وہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 5 کو ضرور پڑھیں، جو ریاست سے غیر متزلزل وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی بات چیت کی ابتدا ریاست سے وفاداری اور مکمل اطاعت سے ہی ممکن ہے۔
ریاست اب مزید پیچھے نہیں ہٹے گی
وزیرِ دفاع کے اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِاعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس کا لہجہ غیر معمولی طور پر سخت تھا۔
وزیراعظم کشمیر نے لکھا کہ ’اب امن کی مزید کوئی اپیل ہو گی، نہ مذاکرات کی مزید کوئی استدعا اور نہ ہی اب مزید کوئی پیشکش اور رعایت دی جائے گی۔ دروازے اب بھی کھلے ہیں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہش بھی موجود ہے لیکن ریاست اب مزید پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ہوش کے ناخن لیں۔‘

حکومتی ارکان کے یہ سخت بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رواں ہفتے کے اوائل سے جاری پرتشدد احتجاج اور جھڑپوں کے دوران خطے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 20 تک پہنچ گئی ہے۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان جھڑپوں میں کوٹلی میں سات، راولاکوٹ میں 12 اور میرپور میں ایک شخص ہلاک ہو چکا ہے جن میں راولاکوٹ پولیس کے تین اہلکار اور ایک پیراملٹری جوان بھی شامل ہیں۔
اتوار کی صبح تازہ شلینگ اور ہلاکتیں
مقامی ذرائع کے مطابق حکام کے سخت موقف کے بعد اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز نے راولاکوٹ کے قریبی علاقے دریک میں موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شدید شلینگ اور فائرنگ کی جس کے بعد مظاہرین عارضی طور پر پیچھے ہٹے تاہم وہ دوبارہ عیدگاہ گراؤنڈ میں جمع ہو رہے ہیں۔
دریک کے ایک مقامی شہری نے فون پر اردو نیوز کو بتایا ’اتوار کی صبح ہونے والی شلینگ اور فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے ایک شخص کی میت کو ایمبولینس کے ذریعے پلندری روانہ کر دیا گیا ہے۔‘

مظفرآباد میں گزشتہ پانچ روز سے مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

راولاکوٹ میں گزشتہ تین روز سے نافذ کرفیو اور آمد و رفت پر پابندیاں برقرار ہیں جبکہ پورے خطے میں مسلسل 10 روز بھی موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔ سنیچر کی شام سے راولاکوٹ میں موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر کام کر رہی ہے۔
گزشتہ دو دن سے راوالاکوٹ کے دھرنوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ مقامی خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی سفید جھنڈے اٹھائے احتجاج میں شریک ہو رہی ہے۔
مظفرآباد میں پانچ روز سے مکمل لاک ڈاؤن
دوسری جانب دارالحکومت مظفرآباد میں صورتِ حال سنگین ہو چکی ہے جہاں گزشتہ چھ روز سے مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہے۔
انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز نے مظفرآباد کی مرکزی سڑکوں پر وقفوں وقفوں سے مٹی کی بوریاں رکھ کر عارضی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں تاکہ کالعدم ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘کے لانگ مارچ کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
اتوار کی دوپہر مظفرآباد سے سینیئر صحافی سجاد میر نے بتایا کہ مسلسل ہڑتال اور دکانیں بند ہونے کی وجہ سے شہری شدید ترین اذیت کا شکار ہیں۔

پورے خطے میں مسلسل چھٹے روز بھی موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا ’شہر میں خور و نوش کی اشیاء ختم ہو رہی ہیں جس کے باعث بہت سے شہری قریبی خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ کا سفر کرنے پر مجبور ہیں تاکہ وہاں سے چکن اور سبزیاں وغیرہ لا سکیں۔ اس کے علاوہ شہر میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور بینکوں کی اے ٹی ایمز نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ کالعدم گروپ کی فنڈنگ کے الزام میں انتظامیہ نے شہر کے کچھ بڑے کاروباری مراکز کو بھی سیل کر دیا ہے۔
دھرنوں کا ختم ہونا اور دوبارہ متحرک ہونا
اس سے قبل جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب پونچھ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین ممکنہ سکیورٹی آپریشن کی وارننگ کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو گئے تھے اور راولاکوٹ شہر مکمل پرامن ہے۔
تاہم کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ رات کو عوام کو سکیورٹی خدشات کے باعث حکمتِ عملی کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا اور صبح ہوتے ہی مظاہرین کی بڑی تعداد دوبارہ دریک عیدگاہ گراؤنڈ اور متیالمیرہ بس ٹرمینل پر پہنچ کر دھرنے فعال کر چکی ہے۔
پرانے مقدمات کی بحالی
مظاہرین کے خلاف حکومتی حکمتِ عملی اب مکمل طور پر قانونی اور انتظامی طاقت کے استعمال کی طرف مائل دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دو دن قبل ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کالعدم جے اے اے سی کے رہنماؤں کو مئی 2024 اور دسمبر 2025 کے دوران صدارتی اور وزارتی احکامات کے تحت ملنے والا تمام قانونی ریلیف منسوخ کر دیا ہے۔
اس نئے نوٹیفکیشن کے بعد ماضی میں واپس لیے گئے توڑ پھوڑ، کارِ سرکار میں مداخلت اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے تمام سنگین مقدمات فوری طور پر بحال کر دیے گئے ہیں تاکہ روپوش قائدین کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکے۔

کومتی حکمتِ عملی اب مکمل طور پر قانونی اور انتظامی طاقت کے استعمال کی طرف مائل دکھائی دیتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یاد رہے کہ یہ حالیہ بحران مئی کے آخر میں آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے بلوں میں ریلیف سے متعلق وفاقی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد شروع ہوا، جس کے بعد حکومت نے ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دے کر اس کے رہنماؤں کی گرفتاری پر انعامات اور بغاوت کے مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
ان مذاکرات میں جب نکات یا مطالبات پر فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوا ان میں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کا معاملہ سرفہرست ہے۔
کالعدم گروپ کا مطالبہ ہے کہ ان نشستوں کو ختم کیا جائے جبکہ کشمیر کی سپریم کورٹ نے ان سیٹوں سے متعلق ایک صدارتی ریفرنس کے جواب میں مشاورتی رائے دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ان نشستوں کو قانون ساز اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی مدد سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔‘

شیئر: