Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کا دوسرا دن، ’مساجد سے اعلانات اور ہیلی کاپٹرز کی پروازیں‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چند دن قبل کالعدم قرار دی جانے والی ’جوائنٹ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے لانگ مارچ کے دوسرے روز پونچھ ڈویژن کے مرکزی شہر راولاکوٹ میں حالات کشیدہ ہیں۔
دوسری جانب دارالحکومت مظفرآباد سمیت مختلف شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور بدھ کی صبح سے ہیلی کاپٹرز کی پروازیں جاری ہیں جبکہ خطے میں انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔
’مساجد سے اعلانات اور ہیلی کاپٹرز کی پروازیں‘
راولاکوٹ کے ایک مقامی شہریوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فون پر بدھ کی دوپہر اردو نیوز کو بتایا کہ ’سب سے پہلے شہر کی کچہری کے قریب واقع ایک مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور تمام لوگ اپنے گھروں کے اندر رہیں۔‘
ان کے مطابق اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک اور مسجد سے تین سے چار مرتبہ یہی اعلان دہرایا گیا اور وارننگ دی گئی کہ ’کوئی بھی شخص شہر میں داخل نہ ہو، بصورتِ دیگر وہ خود ذمہ دار ہوگا۔‘
حکام کی جانب سے ابھی تک کرفیو کے نفاذ کا کوئی باقاعدہ تحریری نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا ہے اور اس سلسلے میں جب ڈپٹی کمشنر راولاکوٹ سے رابطے کی کوشش کی گئی تو ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح سے راولاکوٹ کی فضاؤں میں ہیلی کاپٹرز کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے جو مقامی کالج گراؤنڈ میں لینڈنگ کر رہے ہیں۔
راولاکوٹ کی ہاؤسنگ کالونی کے ایک رہائشی نے بتایا کہ مرکزی سڑکوں پر موٹر سائیکل سواروں کو آگے بڑھنے سے روکا جا رہا ہے اور کہیں بھی شہریوں کو جمع نہیں ہونے دیا جا رہا۔
شہر کی جانب جانے والے تمام راستوں پر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے تاکہ لانگ مارچ کے شرکا کو راولاکوٹ میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
تصادم میں ہلاکتیں اور مارچ کی صورتحال

31 مئی کو عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی: فوٹو اے ایف پی 

عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر منگل (9 جون) کو میرپور، کوٹلی اور پونچھ ڈویژن سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز ہوا تھا۔
اس دوران کوٹلی میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک مقامی ڈاکٹر سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل راولاکوٹ میں سات اور آٹھ جون کی رات جھڑپوں میں کم از کم 11 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق کوٹلی اور پلندری سے نکلنے والے قافلے پونچھ ڈویژن کے سیاحتی مقام بنجوسہ پہنچ چکے ہیں، جہاں مزید مظاہرین ان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب وادیِ نیلم سے بھی مظاہرین کا ایک قافلہ دارالحکومت مظفرآباد کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔
مظفرآباد سے صحافی سجاد میر کے مطابق دارالحکومت میں مارچ کے پہلے دن مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی، تاہم شہر میں فی الحال کسی بڑے احتجاجی مظاہرے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
انتظامیہ نے الرٹ برقرار رکھا ہوا ہے اور یہاں بھی ہیلی کاپٹرز کی آمد و رفت جاری ہے۔ پورے خطے میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند ہیں، البتہ فون کالز کی سہولت کام کر رہی ہے۔
مذاکرات کی ناکامی اور ’بغاوت‘ کے مقدمات

منگل (9 جون) کو میرپور، کوٹلی اور پونچھ ڈویژن سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز ہوا تھا: فوٹو اے ایف پی 

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں یہ حالیہ بحران اس وقت دوبارہ سنگین ہوا جب 31 مئی کو اسلام آباد میں قائم اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے درمیان مظفرآباد میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔
مذاکرات کی ناکامی کے پانچ دن بعد، جمعے کی شام کشمیر کے محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ’جوائنٹ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیم قرار دے دیا تھا۔
تاہم کالعدم ایکشن کمیٹی نے حکومتی پابندی کو مسترد کرتے ہوئے 9 جون کے لانگ مارچ کا پلان برقرار رکھا۔
لانگ مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی محکمہ داخلہ نے دو مزید اہم نوٹیفکیشن جاری کیے۔
پہلے نوٹیفکیشن میں کالعدم کمیٹی کے چار مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر، سردار امان خان، سردار عمر نذیر اور خواجہ مہران ارشد کی گرفتاری میں معاونت پر ایک ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا۔
جبکہ دوسرے نوٹیفکیشن کے تحت شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف ’ریاست کے خلاف بغاوت‘ کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا جس کے بعد مظفرآباد اور ڈڈیال کے تھانوں میں ان کے خلاف ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں

شیئر: