غلافِ کعبہ کی تیاری کتنے مراحل پر مشتمل ہوتی ہے؟
بیت اللہ کا غلاف جسے عربی میں کسوۂ کعبہ بھی کہتے ہیں، تیاری کے سات دقیق مراحل سے گزرنے کے بعد محرم کی پہلی تاریخ کو نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی سرکاری طور پر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
اس عمل کی ابتدا پانی کی تطہیر (پانی سے نمکیات کو علیحدہ کرنے) سے ہوتی ہے۔ اِس پانی سے کعبے کے غُسل اور ریشمی غلاف کو رنگنے کا کام لیا جاتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پانی کی تطہیر کے بعد کعبے کے غُسل کا مرحلہ آتا ہے اور دوسری طرف غلاف کی رنگائی کا ابتدائی کام شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے غلاف سے موم کی تہہ کو ہٹایا جاتا ہے اور کسوہ کے بیرونی حصے کی سیاہ جبکہ اندورنی حصے کی سبز رنگائی کی جاتی ہے۔
اس کے بعد خود کار بُنائی کا مرحلہ آتا ہے جس میں ریشمی دھاگوں کو ایک چرخی پر چڑھایا جاتا ہے تاکہ غلاف کا تانا تیار ہو سکے۔ غلاف کی فی میٹر لمبائی کے لیے 9900 ریشمی دھاگے استعمال ہوتے ہیں۔
اس مرحلے کی تکمیل کے بعد قرآنی آیات اور اسلامی نقوش کو ’سِلک سکرین تکنیک‘ کے ذریعے سادہ ریشم پر اتارا جاتا ہے۔ یہ کام انتہائی دقتِ نگاہ سے ہوتا ہے گویا ایک ایک حرفِ قرآنی کو حسابی احتیاط کے ساتھ غلاف پر منتقل کیا جا رہا ہو۔
بعد کے مراحل میں غلاف کے مختلف سائز کے ٹکڑوں کی، جو پینلز کی شکل میں جستہ جستہ تیار کیے جا چکے ہوتے ہیں، آپس میں سلائی کی جاتی ہے اور سنہرے رنگ سے اُن کی آرائش کی جاتی ہے۔

اگلے مرحلے میں اِن سنہری حصوں پر کڑھائی کے لیے خالص چاندی اور وہ دھاگا استعمال کرتے ہیں جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہو۔
قرآنی آیات اور نقوش کے نیچے کاٹن کے دھاگوں کی تہہ لگائی جاتی ہے تاکہ ڈیزائن اور الفاظ قدرے ابھرے ابھرے اور تین جہتوں والے یعنی (تھری ڈائمینشنل) نظر آئیں۔

کسوہ کی تیاری کے آخری مرحلے میں انتہائی سخت اور معیاری کنٹرول والے بندوبست کے تحت حتمی منظوری دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کسوہ کے تمام اجزا اُس اعلٰی معیار پر پورے اُترتے ہوں جو کسوہ کی تیاری کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
کنگ عبدالعزیز کمپلیکس کے مطابق کعبۃ اللہ کے غلاف یعنی کسوہ کی تیاری کے لیے لگ بھگ 825 کلوگرام خام ریشم، 120 کلوگرام چاندی کی تار جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے، 60 کلوگرام خالص چاندی اور 410 کلوگرام خام روئی استعمال ہوتی ہے۔