Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان میں سرکاری ملازمین کے سمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی

سرکاری ملازمین سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی سے پریشان دکھائی دیتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان میں سرکاری ملازمین کے سمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جس پر انہوں نے اِن کا استعمال بند کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ بدھ کو سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے سمارٹ فونز کے خلاف حکم نامہ نافذ ہو گیا ہے۔
سمارٹ فونز پر پابندی کا خط گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر گردش کرنا شروع ہوا تھا جس پر افغان سپریم کورٹ کا مخصوص نشان بھی موجود تھا، جس پر خبر رساں ادارے نے اس پر موقف جاننے کے لیے درخواست بھجوائی تھی، تاہم اس کا جواب نہیں دیا گیا۔
خط کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ’تمام شعبوں کے سربراہان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سٹاف کو آگاہ کریں کہ سمارٹ فون کا استعمال سختی سے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اور یہ 17 جون سے نافذ ہو گیا ہے۔‘
خط میں فوجی اور سویلین محکموں کے تمام اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں چُھوٹ صرف سپریم لیڈر ہی دے سکتے ہیں۔
بدھ کی دوپہر تک مرکزی حکومت کے متعدد محکمے اپنے واٹس ایپ گروپس کے ذریعے معلومات جاری کر رہے تھے۔

حکم نامے کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی (فائل فوٹو: روئٹرز)

اے ایف پی کے مطابق افغان حکومت کا موقف جاننے کے لیے دو ترجمانوں کو درخواستیں بھجوائی گئیں مگر ان کا جواب نہیں دیا گیا۔
غزنی صوبے میں جو کہ دارالحکومت کابل اور سپریم لیڈر کی رہائش گاہ (قندھار) کے درمیان واقع ہے، میں سرکاری ملازمین نے منگل کی شام سے ہی اپنے موبائل فون بند کرنا شروع کر دیے تھے۔
معدنیات و پیٹرولیم شعبے سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازم عرفان اللہ نے واٹس ایپ گروپ میں لکھا کہ ’یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بدھ سے دفاتر میں سمارٹ فونز کا استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔‘
اے ایف پی نے گروپ میں شیئر کیے گئے اس پیغام کے مشاہدے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملازمین سے رابطہ ٹیلی فون اور ای میل کے ذریعے کیا جا سکے گا۔

افغانستان میں اس سے قبل خواتین کی تعلیم اور دوسری چیزوں پر بھی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

غزنی کے ایک بلدیاتی ملازم جنہوں نے سکیورٹی بنیادوں پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، کا کہنا تھا کہ انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ ’جو بھی سمارٹ فون استعمال کرے گا اسے ملازمت سے نکال دیا  جائے گا اور قانونی کارروائی بھی ہو گی۔‘

’بہت دل شکن اقدام ہے‘

بدخشاں سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم کا کہنا ہے کہ ’خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ کی قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک ملازم کا کہنا ہے کہ ’واٹس ایپ گروپس کے ذریعے کام میں سہولت تھی اب بہت مشکلات ہو جائیں گی۔‘
اسی طرح ایک سکول ٹیچر نے حکم نامے کو ’انتہائی دل شِکن‘ اقدام قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا موبائل ضبط کیا گیا اور اس شرط پر واپس دیا گیا ہے کہ آئندہ لے کر مت آنا۔

 

شیئر: