Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کیا کام بدلنا چاہو گی‘، کمیٹی اجلاس کے دوران غیر اخلاقی پیغام بھیجنے پر آسٹریلوی سیاست دان تنقید کی زد میں

مارک پارٹن نے تسلیم کیا کہ ان کا مزاج ذرا مزاحیہ اور غیر رسمی ہے (فائل فوٹو: اے بی سی)
آسٹریلیا میں ایک سینیئر اپوزیشن رہنما اس وقت شدید شرمندگی کا شکار ہو گئے جب انہیں اسمبلی کمیٹی کے اہم اجلاس کے دوران ایک شخص کو ’میرا کام بہت بورنگ ہے‘ کا پیغام بھیجنے کا اعتراف کرنا پڑا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹریلین کیپٹل ٹیریٹری میں اپوزیشن لبرل پارٹی کے سربراہ مارک پارٹن پر رواں ہفتے ایک باقاعدہ شکایت کے ذریعے الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے یہ غیر اخلاقی اور نامناسب پیغام ایک سیکس ورکر کو بھیجا تھا۔
مقامی اخبار ’کینبرا ٹائمز‘ کے مطابق پارٹن نے پچھلے ماہ کمیٹی کے اجلاس کی تصویر کے ساتھ پیغام بھیجا تھا جس میں انہوں نے نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا ’میرا کام بہت بورنگ ہے۔ کیا تم اپنا کام میرے ساتھ بدلنا چاہو گی؟‘
ابتدائی طور پر اس شکایت کو اپنے خلاف ’پروپیگنڈا‘ قرار دے کر مسترد کرنے والے مارک پارٹن نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ پیغام انہوں نے ہی بھیجا تھا، تاہم انہوں نے اس بات کی پُرزور تردید کی کہ یہ پیغام کسی سیکس ورکر کو بھیجا گیا تھا۔
انہوں نے یہ ظاہر کرنے سے گریز کیا کہ وہ شخص کون تھا جسے یہ پیغام بھیجا گیا تاہم اپنے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی ’حکومت کا محاسبہ کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’اسمبلی کے اجلاسوں اور سماعتوں کے دوران بہت سے لوگ آپس میں ذاتی پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ میرے خیال میں لوگوں کو ایسے ذاتی پیغامات بھیجنا بالکل مناسب ہے جو عوامی سطح پر شائع کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔‘
مارک پارٹن نے اپنے روایتی آسٹریلوی اندازِ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے مانا کہ ان کا مزاج ذرا مزاحیہ اور غیر رسمی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ تر لوگوں کی نظر میں بجٹ کے تخمینے سے متعلق اجلاس واقعی کافی بورنگ ہوتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ مارک پارٹن کے خلاف دائر کردہ سرکاری شکایت کو خارج کر دیا گیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والی اس ’ہراسانی‘ کے معاملے پر پولیس سے رجوع کر لیا ہے۔

شیئر: