Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی بحریہ میں شامل ہونے والا جدید ترین جہاز ’جلالہ الملک المدینہ‘

منصوبے کے پہلے مرحلے میں 5 جہاز شاہی بحریہ کو منتقل کیے گئے (فوٹو، ایس پی اے)
سعودی شاہی بحریہ نے ’سروات منصوبے‘ کے دوسرے مرحلے کا پہلا جدید ترین جنگی جہاز سپین کے شہر سان فرنانڈو میں باضابطہ طور پر وصول کرلیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع نے دسمبر 2024 میں ہسپانوی کمپنی ’نافانتیا‘ کے ساتھ بحری جنگی جہازوں کی خریداری کے لیے معاہدہ کیا تھا۔
بحریہ کے جہازوں کی خریداری کے منصوبے کو ’سروات‘ کا نام دیا گیا تھا، جس کے پہلے مرحلے کے تحت 5 جنگی جہاز سعودی بحریہ کے سپرد کیے جا چکے ہیں۔

پہلے مرحلے میں 5 جہاز سعودی بحریہ کے سپرد کیے جاچکے ہیں (فوٹو، ایس پی اے)

سروات منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت شاہی بحریہ کو ملنے والا جہاز ’جلالہ الملک المدینہ‘ ان تین جہازوں میں سے پہلا جہاز ہے جو کورویٹ طرز کے ’افانتی 2200‘ ماڈل کا ہے، جبکہ ’جلالہ الملک نیوم‘ اور ’جلالہ الملک العلا‘ ناموں سے تیار ہونے والے جہاز بھی دوسرے مرحلے کا ہی حصہ ہیں۔
سعودی بحریہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد بن عبدالرحمن الغریبی نے اس موقع پر بتایا کہ ’منصوبہ طے شدہ مقررہ شیڈول کے تحت جاری ہے اور اس میں سعودی افرادی قوت کی تربیت، بحری ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی دفاعی صنعت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔‘

یہ فضا اور آبدوزوں کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ (فوٹو، ایس پی اے)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’منصوبہ سروات کا مقصد مملکت میں عسکری بحری صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر فروغ دینا ہے، جبکہ سعودی عربین ملٹری انڈسٹریز (سامی) بحری جنگی نظام ’حزم‘ کو جدید ہتھیاروں کے نظام کے ساتھ مربوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے، جس سے مقامی صلاحیتوں کی نشوونما میں اضافہ اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف حاصل ہوں گے۔‘
واضح رہے جدید جنگی جہاز فضائی، سطح سمندر اور آبدوزوں کے خطرات سے نمٹنے، سمندری حدود کی نگرانی اور مملکت کے سٹراٹیجک مفادات کے تحفظ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کا باعث ثابت ہوں گے۔

 

شیئر: