عرب مہمان نوازی کی علامت ’النجر‘ جس نے اپنی روایتی شناخت برقرار رکھی
النجر ٹھوس تانبے سے بنتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
یہ فیاضی اور گرم جوشی کی نمائندگی کرنے والی ایک سماجی علامت بن چکا ہے اگرچہ آج کے دور میں کافی بنانے کی مشینوں میں طرح طرح کی جدت متعارف ہو چکی ہے۔
النجر میں روسٹ کی ہوئی کافی کی پھلیاں، الائچی اور کافی میں استعمال ہونے والے دیگر اجزا موگری سے کُوٹے جاتے ہیں۔ موگری کو عربی میں ’ید النجر‘ یا نجر کا ہاتھ کہتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس طریقے سے کافی پیستے وقت وہ آوازیں پیدا ہوتی ہیں جو عوامی کلچر میں جانی پہچانی ہیں اور مہمانوں کے استقبال سے جُڑ گئی ہیں۔ ہاون دستے میں موگری سے کافی پیسنے میں جو مخصوص آواز پیدا ہوتی ہے اُس کی طوالت بھی ہاون دستے کی کوالٹی اور اُسے بنائے جانے میں استعمال کی گئی مہارت کا اشارہ بھی ہے۔
النجر عام طور پر ٹھوس تانبے سے بنتا ہے اور اِس کی مخروطی شکل ہوتی ہے جس کا پیندہ موٹا اور مضبوط ہوتا ہے تاکہ موگری کی بار بار کی مار سہہ سکے۔
آج النجر، عرب میزبانی اور مہمان نوازی کی زندہ گواہی اور ایسی ثقافتی علامت ہے جس سے سعودی لوک ورثے کی گہرائی کا سراغ ملتا ہے۔ یہ ان سماجی اقدار اور روایات کی نمائندگی کرتا ہے جو نسل در نسل عربی قہوے اور روایتی میل جول کی محفلوں سے وابستہ رہی ہیں۔