سعودی عرب: ایک ہفتے میں 15 ہزار 288 غیر قانونی تارکین گرفتار، 10 ہزار کو واپس بھیجا گیا
مملکت میں غیرقانونی تارکین کو سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر سکیورٹی کی مزید 15 ہزار 288 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں جبکہ 10 ہزار 458 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق ’11 سے 17 جون 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار 864 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار 576 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزار 848 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 668 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 53 فیصد ایتھوپین، 46 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں مزید 54 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کر کے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 24 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
مکہ اور ریاض میں ٹول فری نمبر 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 یا 996 پر مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔
