Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان میں طالبان اقتدار کے 5 سال: سڑکیں محفوظ، معیشت مشکلات میں، خواتین پر تعلیم کے دروازے بند

طالبان کے نائب وزیر مولوی حیات اللہ مہاجر فراحی نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں حکومت نے سکیورٹی فراہم کی، کرنسی کو مستحکم کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال مکمل ہونے پر کابل کے بعض رہائشیوں نے کہا ہے کہ کئی دہائیوں کی جنگ اور بدامنی کے بعد وہ خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب حکمرانوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک میں سکولوں تک رسائی بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے، جہاں 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 30  سالہ محمد قاسم نے اس موقع پر کہا، ’خدا کا شکر ہے کہ گزشتہ پانچ سال امن و سلامتی کے ساتھ گزرے ہیں۔‘ انہوں نے ایک ایسے ملک میں اس دن کی اہمیت پر بات کی جو اب بھی معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا، حکومت سے ہمارا مطالبہ اور امید ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا، ’ہم پوری قوم کے ساتھ مل کر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے۔‘
طالبان کی جانب سے خواتین کے حقوق پر پابندیاں برقرار
طالبان نے 15 اگست 2021 کو افغانستان کا دوبارہ کنٹرول سنبھالا تھا، جب امریکہ اور دیگر نیٹو افواج دو دہائیوں کی جنگ کے بعد ملک سے انخلا کر رہی تھیں۔ انخلا کے دوران کابل کے ہوائی اڈے اور اس کے اطراف میں افراتفری کے مناظر دیکھنے میں آئے اور ہزاروں افراد ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔
طالبان نے ابتدا میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا، لیکن جلد ہی لڑکیوں اور خواتین کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کر دی۔ طالبان نے اس اقدام کے لیے اسلامی قوانین کی اپنی تشریحات کو بنیاد بنایا۔ بعد ازاں خواتین کے روزگار اور مرد سرپرست کے بغیر سفر کرنے پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔
اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں نسبتاً استحکام آیا ہے، تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ دیرپا استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک طالبان، جو اب بھی عالمی سطح پر بڑی حد تک تنہائی کا شکار ہیں، خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ختم نہیں کرتے، بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کرتے اور دہشت گردی سے متعلق خدشات کا ازالہ نہیں کرتے۔

طالبان نے 15 اگست 2021 کو افغانستان کا دوبارہ کنٹرول سنبھالا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان  نے طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ’جنگ کے خاتمے میں کمی نے بہت سے افغانوں کو واضح فوائد پہنچائے ہیں اور بحالی، ترقی اور علاقائی اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کے مواقع پیدا کیے ہیں۔‘
تاہم مشن نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں افغانستان کی بحالی اور عالمی برادری میں اس کی دوبارہ شمولیت میں رکاوٹ ہیں۔

اقوام متحدہ: افغانستان میں خواتین کے حقوق کا دنیا کا شدید ترین بحران

اقوام متحدہ کے خواتین کے حقوق سے متعلق ادارے یو این ویمن نے اس ہفتے ایک بیان میں کہا کہ افغان خواتین اور لڑکیاں دنیا کی شدید ترین پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں، جو نہ صرف ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک کے سماجی اور معاشی مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
ادارے نے کہا کہ ’اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے نصف دہائی بعد افغانستان نے اپنی نصف آبادی کے حقوق کو منظم انداز میں ختم کر دیا ہے، جس کی جدید دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔‘
ادارے کے مطابق، ’صرف گزشتہ ایک سال کے دوران خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار، عوامی زندگی، نظامِ انصاف اور صحت کی سہولیات سے خارج کرنے کا عمل مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے افغانستان میں دنیا کا خواتین کے حقوق کا شدید ترین بحران مزید مضبوط ہوا ہے۔‘

کابل کی سڑکوں پر طالبان کے اقتدار کی پانچویں سالگرہ کی تقریبات کی تیاریاں جاری ہیں۔ (فوٹو: اے پی)

کابل میں مقیم 39 سالہ کاروباری خاتون اور خواتین کے حقوق کی کارکن فضیلہ سروش نے کہا کہ حکومت نے ’ہر شعبے میں اپنے اقدامات کے ذریعے عوام کے سامنے اپنی کارکردگی ثابت کی ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی امارت کے حکام اب اس معاملے پر واضح اور عملی فیصلہ کریں۔‘

کابل میں پانچویں سالگرہ کی تقریبات کی تیاریاں

کابل کی سڑکوں پر طالبان کے اقتدار کی پانچویں سالگرہ کی تقریبات کی تیاریاں جاری ہیں۔ دکاندار طالبان کے سفید جھنڈے فروخت کر رہے تھے جن پر سیاہ تحریریں درج ہیں، جبکہ مصور دیواروں پر اسلامی قوانین کی تعریف میں نعرے لکھ رہے تھے۔
ان نعروں میں’اسلامی نظام شہداء کے خون کی قیمت پر حاصل کیا گیا ہے‘ اور ’ہمارا عزم مضبوط ہے: اسلامی شریعت کا استحکام اور نفاذ‘ شامل ہیں۔

طالبان کا مؤقف: ملک میں سکیورٹی اور استحکام آیا

طالبان حکومت کی وزارتِ اطلاعات و ثقافت میں نشریات کے نائب وزیر مولوی حیات اللہ مہاجر فراحی نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں حکومت نے سکیورٹی فراہم کی، کرنسی کو مستحکم کیا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا اور صنعتی پارکس قائم کیے جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔

طالبان کے نائب وزیر نے افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ (فوٹو: اے پی)

فراحی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’قدرتی طور پر چیلنجز اور مشکلات موجود ہیں، تاہم ہم نے کئی کامیابیاں حاصل کیں۔‘
جب ان سے لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس معاملے پر براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم کہا کہ ’جامعات میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی سطح ماضی میں کی جانے والی کسی بھی سطح سے زیادہ ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’امارت اپنے شہریوں کے لیے تعلیم اور دیگر شعبوں میں خدمات کو مزید منظم اور بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
نائب وزیر نے افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ محض دشمن کا پروپیگنڈا ہے، جس کا مقصد ملک کو غیر مستحکم ظاہر کرنا ہے۔‘
جب ان سے عالمی سطح پر طالبان حکومت کی تنہائی کے بارے میں پوچھا گیا تو فراحی نے اصرار کیا کہ طالبان حکومت تقریباً 40 ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس وقت روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکونے اس ہفتے کہا کہ تعلیمی پابندیوں کے باعث تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔ (فوٹو: اے پی)

انہوں نے کہا کہ ’اسلامی امارت افغانستان نے باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے درکار تمام تقاضے پورے کر دیے ہیں۔ اب عالمی برادری اور دیگر فریقوں کو آگے بڑھ کر مناسب اقدام کرنا ہے۔‘

اقوام متحدہ نے وسیع تر تعلیمی بحران کی نشاندہی کی

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکونے اس ہفتے کہا کہ تعلیمی پابندیوں کے باعث تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 لاکھ زیادہ ہیں۔ ادارے کے مطابق ان پابندیوں نے تعلیم کے شعبے میں افغانستان کی جانب سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران حاصل کی گئی پیش رفت کو الٹ دیا ہے۔
ادارے نے ایک وسیع تر تعلیمی بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پرائمری سکول جانے کی عمر کے 53 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں۔ سکولوں میں پانی، صفائی اور حرارت جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، جبکہ قدرتی آفات کے باعث بھی سیکڑوں اسکول بند ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا کہ افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں میں غذائی قلت تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور اس میں مزید اضافہ متوقع ہے، کیونکہ فنڈز کی کمی کے باعث خوراک کی تقسیم اور دیگر امدادی سرگرمیوں میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔
کابل میں دوست محمد خان نے طالبان حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں استحکام آیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ڈاکٹروں اور انجینئروں جیسے تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت ہے اور حکام کو ’تمام شعبوں کو فعال رکھنے‘ پر توجہ دینی چاہیے۔
38 سالہ دوست محمد خان نے کہا کہ ’ہم اسلامی امارت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ خواتین کو شریعت کے مقرر کردہ لباس کے ضابطے کے تحت سکول جانے کی اجازت دی جائے، اور ہم عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ امارت کی ہدایات پر عمل کریں۔‘

شیئر: