Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دنیا کی سب سے بڑی تنظیمِ نو‘، انڈونیشیا کا 750 سے زیادہ سرکاری ادارے بند کرنے کا اعلان

انڈونیشین صدر نے کہا کہ ہم 750 سے زائد ادارے بند کریں گے اور صرف وہی ادارے برقرار رکھیں گے جو پیداواری ہوں گے (فوٹو: روئٹرز)
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے جمعے کے روز عندیہ دیا ہے کہ وہ ایسے ’غیر پیداواری‘ سرکاری اداروں کے بورڈز کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو مبینہ طور پر فرضی منافع ظاہر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سال کے اختتام تک 750 سے زائد سرکاری ملکیتی ادارے بند کر دیے جائیں گے۔
جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت انڈونیشیا کئی برسوں سے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں بدعنوانی کا سامنا کر رہی ہے۔ حکومت انسدادِ بدعنوانی کے قوانین کو سخت بنانے، خصوصی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے اور متعدد بااثر شخصیات کو گرفتار کرنے کے باوجود اس مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
پارلیمان سے اپنے خطاب میں صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا کہ ’غیر پیداواری سرکاری اداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ مسلسل خسارے کی رپورٹ دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی منافع کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، جبکہ یہ منافع صرف فرضی نوعیت کا ہوتا ہے۔‘
صدر نے بتایا کہ ’گزشتہ سال ریاستی اثاثوں کے انتظام کے لیے قائم کیے گئے خودمختار ویلتھ فنڈ دانانتارا کے ذریعے جب سرکاری اداروں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ملک میں 1074 سرکاری ملکیتی ادارے موجود ہیں۔‘
انہوں نے قانون سازوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’میں سمجھتا تھا کہ شاید 300 یا 400 سرکاری ادارے ہوں گے، مگر حقیقت میں ان کی تعداد 1,074 نکلی۔ ان میں سے بعض ادارے اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں اور نہ قوم اور نہ ہی ریاست کے لیے جوابدہی کا احساس رکھتے ہیں۔‘
صدر کے مطابق اب تک 290 ادارے بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ 31 دسمبر تک ان کی مجموعی تعداد کم کر کے 300 سے زیادہ نہیں رہنے دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم 750 سے زائد ادارے بند کریں گے اور صرف وہی ادارے برقرار رکھیں گے جو پیداواری ہوں اور عوام کے لیے حقیقی اضافی قدر پیدا کریں۔ یہ ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی کارپوریٹ تنظیمِ نو ہوگی۔‘
پرابوو سوبیانتو کے مطابق اس مہم کے نتیجے میں اب تک 50 کھرب روپیہ (تقریباً 2.8 ارب ڈالر) کے انتظامی اخراجات کی بچت ہو چکی ہے، جن میں ڈائریکٹرز اور کمشنرز کی تنخواہیں، عمارتوں اور گاڑیوں کے کرایے اور سرکاری سفری اخراجات شامل ہیں۔‘

اب تک 290 ادارے بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ 31 دسمبر تک ان کی مجموعی تعداد کم کر کے 300 سے زیادہ نہیں رہنے دی جائے گی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’سال 2026 کے لیے حکومت کا ہدف 70 کھرب روپیہ سے زیادہ کی بچت کرنا ہے۔‘
صدر کا کہنا تھا کہ ’سرکاری اداروں کے انتظام میں بہتری کی بدولت ان کا مجموعی منافع 2024 کے مقابلے میں 75 فیصد سے زیادہ بڑھ کر گزشتہ سال 326 کھرب روپیہ ہو گیا۔‘
’بہتری اور کارکردگی‘
پرابوو سوبیانتو نے تجویز دی کہ سرکاری ملکیتی اداروں کے انتظام اور ان کے بورڈز کی گزشتہ 30 برس، یا ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ عرصے کی کارکردگی کی تحقیقات کے لیے ’ایک خصوصی ایڈہاک عدالت‘ قائم کی جائے۔
تاہم انہوں نے قانون سازوں سے یہ بھی کہا کہ ’وہ ان افراد کے لیے ایک طرح کی ’خصوصی معافی‘ پر غور کریں جو اپنی غلطیوں پر پشیمانی کا اظہار کر چکے ہوں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے 2025 کے انٹرنیشنل کرپشن انڈیکس میں انڈونیشیا نے 100 میں سے صرف 34 پوائنٹس حاصل کیے۔
بدعنوانی کے خلاف آواز اس وقت ہونے والے احتجاج کا بھی ایک اہم نعرہ بن چکی ہے، اور مظاہرین بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انڈونیشیا سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے نتیجے میں تیل کی بلند قیمتوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔
حکومت کے جس منصوبے کو خاص طور پر تنقید کا سامنا ہے، ان میں سکولوں میں مفت کھانے کی مہنگی سکیم بھی شامل ہے۔ یہ پرابوو سوبیانتو کی حکومت کا اہم منصوبہ ہے اور انہوں نے جمعے کو عزم ظاہر کیا کہ اسے زیادہ ’بہتری اور مؤثر انتظام‘ کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
صدر نے کہا کہ ’ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ انڈونیشیا کے ہر چار میں سے ایک بچے کی نشوونما غذائی قلت کے باعث متاثر ہو۔‘
عالمی سطح پر موجود غیر یقینی صورت حال کے باوجود انڈونیشن صدر نے اصرار کیا کہ ملک کو خوراک اور توانائی کے حوالے سے تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ’پورا اعتماد‘ ہے کہ سال 2026 کے اختتام تک ملکی اقتصادی شرح نمو 6.0 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 5.3 فیصد رہی، جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی۔ تاہم تجزیہ کار انڈونیشیا کے سرکاری اقتصادی شرح نمو کے اعداد و شمار پر بارہا شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

انڈونیشیا کے مختلف شہروں میں مظاہرین بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں (فوٹو: اے پی)

پرابوو سوبیانتو نے جمعے کو کہا کہ ’صرف اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری ہی ہمارا حتمی مقصد نہیں ہیں۔‘
’ہمارا مقصد اپنے عوام کی خوشحالی ہے۔ سرمایہ کاری کا ایک ایک روپیہ ایسا ہونا چاہیے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے اور ہمارے عوام اور خاص طور پر معاشرے کے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائے۔‘

شیئر: