Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الخبر کا ایک کیفے جسے ڈاؤن سنڈروم سے متاثرہ نوجوان چلا رہے ہیں

سعودی عرب کے مشرقی ریجن کے شہر الخبر میں جینیاتی عارضے ڈاؤن سنڈروم سے متاثرہ نوجوان ایک کیفے چلا رہے ہیں۔
الاخباریہ کے مطابق نوجوانوں کی یہ ٹیم، کیفے میں آنے والوں کا پرجوش انداز میں خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرتی ہے۔
کیفے میں کام کرنے والے نوجوان عبدالرحمن کسٹمرز کا استقبال کرتے ہیں اور ان کا آرڈر لینے کے بعد مطلوبہ اشیا فراہم کرنے پر مامور ہیں۔
اپنی نوعیت کے اس منفرد کیفے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کام کرنے والے ’خصوصی افراد‘ ہیں جو انتہائی مہارت سے اپنی ذمے داری کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
یہاں آنے والوں کو بہ زبان خاموشی ایک پیغام بھی ملتا ہے کہ ’ہر انسان کسی نہ کسی خوبی کا حامل ہوتا ہے، کوئی کسی سے کم نہیں ہوتا۔‘

کیفے میں کام کرنے والے ایک نوجوان عماد اللقمان نے بتایا کہ ’میں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر اس کیفے کا آغاز کیا، ہم یہاں مطمئن اور خوش ہیں۔‘
ڈاؤن سینڈروم سے متاثرہ نوجوانوں کی ٹیم کو چھ ماہ کی تربیت دی گئی جس کے بعد وہ اس کیفے کا نظام بہترین انداز میں سنبھالے ہوئے ہیں۔
تربیت کے دوران ان نوجوانوں نے مختلف اقسام کی کافی تیار کرنے میں مہارت حاصل کی اور اب بہترین طریقے سے یہ کام کر رہے ہیں۔

کافی کی تیاری کے علاوہ انہیں کسٹمرز سے رابطے، سمھجنے اور سمجھانے پر بھی مکمل عبور حاصل ہو چکا ہے۔
فلاحی تنظیم ایفا کی سی ای او رنا طیبہ نے بتایا کہ ’کیفے کے منصوبے پر غور کے بعد 20 نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا تھا تاہم اس وقت کیفے میں 9 نوجوان مکمل طور پر اس کیفے کو سنبھالے ہوئے ہیں اور بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں۔‘
رنا طیبہ نے کہا کہ نوجوانوں کے انتخاب کے لیے ابتدائی مرحلہ ان کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا، آغاز میں ایسے نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا جو کسی حد تک لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔  لوگوں سے میل ملاپ اور رابطہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔‘

بعد ازاں منتخب نوجوانوں کو تربیت دی گئی۔ اس وقت یہ کیفے کامیابی سے کام کر رہا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کام بھی مشکل نہیں ہوتا۔ اگر ہمت کی جائے تو تمام امور بآسانی مشکل مراحل طے کر لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ کیفے ان خاندانوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے جن کے بچے اس جنیاتی عارضے سے متاثر ہیں۔

 

شیئر: