Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حائل ریجن کا ’جبلِ ابوالھول‘، منفرد چٹانی ساخت کا شاہکار

پہاڑ کے اطراف میں مختلف جسامت کی چٹانی تشکیلات موجود ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
حائل ریجن کے جنوب مغربی سمت میں واقع گاؤں ’اباالحیران‘ سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر سلسلہ ’کوہ اجا‘ میں موجود ’ابوالھول‘ پہاڑ اپنی منفرد چٹانی ساخت کی وجہ سے نمایاں قدرتی و سیاحتی مقام بن چکا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ پہاڑ ہزاروں برس کے دوران ہوا کے قدرتی کٹاؤ اور موسمی اثرات کے باعث وجود میں آیا۔ 
ماہ و سال کے ان قدرتی عوامل نے چٹان کو اس انداز میں تراشا کہ اسے دیکھنے پر بہت بڑے انسانی سر کا گمان ہونے لگتا ہے، اسی وجہ سے اس پہاڑ کا نام ’جبل ابوالھول‘ پڑ گیا۔
تاریخ و فلکیات دان ’مشاری النشمی‘ کا کہنا ہے کہ اس مقام کی ارضیاتی ساخت انتہائی منفرد ہے۔
پہاڑ کے اطراف مختلف جسامت کی چٹانی تشکیلات موجود ہیں، جو طویل عرصے تک طبعی و کیمیائی موسمی اثرات، بارشوں اور نمی کے باہمی عمل سے تشکیل پائیں۔

’ابوالھول‘ پہاڑ اپنی منفرد ساخت کی وجہ سے نمایاں قدرتی و سیاحتی مقام بن چکا ہے (فوٹو: ایس پی اے)

مشاری کے مطابق ان چٹانی ساختوں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ دیکھنے کے زاویے اور فاصلے کی تبدیلی کے ساتھ ان کی شکل و شباہت مختلف محسوس ہونے لگتی ہے۔
 یہ علاقہ متنوعی ارضیاتی مظاہر سے مالا مال ہے، جو اس کی قدرتی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جبل ابوالھول منفرد چٹانی تشکیلوں میں دلچسپی رکھنے والوں اور حائل آنے والے سیاحوں کے لیے غیرمعمولی کشش کا مرکز بن گیا ہے۔

 

شیئر: