Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دفاعی معاہدے کی خوشی: ریاض میں کنگڈم ٹاور پر سعودی، ترکیے اور پاکستان کے پرچم آویزاں

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اہم دفاعی معاہدے کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض کی بلند ترین عمارت کنگڈم ٹاور کو تینوں ممالک کے قومی پرچموں سے سجا دیا گیا۔
کنگڈم ٹاور پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے پرچموں کی خوبصورت منظرکشی تینوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کر رہی ہے۔
تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کو خطے میں باہمی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ریاض کی معروف عمارت پر تینوں ممالک کے پرچموں کی موجودگی نے اس اتحاد کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مختلف علاقوں میں چراغاں کے ان مناظر نے اس تاریخی معاہدے پر عوام کے بھرپور جوش و خروش کی عکاسی کی۔ یہ معاہدہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام اور ایک محفوظ و خوشحال مستقبل کی سمت پیش رفت کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ عزم کو مجسم کرتا ہے۔

یہ تقریبات سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کو متحد کرنے والے ممتاز تعلقات، دیرینہ تاریخی روابط اور اسلامی اخوت و یگانگت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ سنگِ میل دفاعی معاہدہ مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی فوجی تعاون کے لیے پختہ عزم کے تحت ان ہی برادرانہ رشتوں کی بنیاد پر استوار ہوا ہے۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں مقیم پاکستانی شخصیات نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ شرکا کا کہنا ہے کہ تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی روابط کو بھی نئی وسعت دے گا۔
ریاض میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی شخصیات کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون تینوں ممالک کے باہمی اعتماد اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا۔
شرکا کے مطابق دفاعی شعبے میں تعاون کے ساتھ ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، تجارت اور دیگر معاشی شعبوں میں بھی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک کے مضبوط تعلقات خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہیں، جبکہ مشترکہ تعاون معاشی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں بھی کھول سکتا ہے۔
پاکستانی شخصیات نے دفاعی معاہدے کو تینوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کے مزید فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

 

شیئر: