Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یہ کرنا سماج کے لیے بہت ضروری ہے‘، وشال بھاردواج کا صحافی ترن تیجپال کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان

ہدایت کار وشال بھاردواج نے تصدیق کی ہے کہ وہ ترن تیجپال کیس سے متاثر ہو کر ایک فیچر فلم بنا رہے ہیں (فوٹو: مڈ ڈے)
بالی وڈ کے ورسٹائل فلم ساز وشال بھاردواج نے تصدیق کی ہے کہ وہ ترن تیجپال کیس سے متاثر ہو کر ایک فیچر فلم تیار کر رہے ہیں۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب بمبئی ہائی کورٹ نے ’تہلکہ‘ کے سابق ایڈیٹر کی بریت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں ریپ کا مجرم قرار دیتے ہوئے دس سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

’یہ معاشرے کے لیے ایک نہایت اہم کیس ہے‘

انہوں نے اپنے منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کیس کے متضاد عدالتی فیصلے اور اس سے جڑی بہت سی کم معروف تفصیلات اسے فلم کے لیے نہایت مضبوط موضوع بناتی ہیں۔‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’ان کا فلم بنانے کا انداز متوازن ہوگا اور کسی پہلے سے طے شدہ نتیجے کی بجائے مختلف زاویۂ نظر پر مبنی ہوگا۔‘

بھاردواج: ’اس کیس نے کیوں متوجہ کیا؟‘

انہوں نے ورائٹی کو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’دونوں فیصلوں کے درمیان تضاد اسے ’راشومون‘ طرز کی کہانی کے لیے ایک بہترین کیس بناتا ہے۔ اس کیس میں بہت سے ایسے حقائق اور واقعات ہیں جن سے لوگ واقف نہیں، اور انہیں اسکرین پر دیکھ کر لوگ حیران بھی ہوں گے اور دلچسپی بھی لیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ کہا جاتا ہے کہ اصل بات تفصیل میں چھپی ہوتی ہے۔ آپ لوگوں سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ 500 سے زائد صفحات پر مشتمل خشک اور پیچیدہ قانونی فیصلے کو پڑھیں؟ میں نے باریک ترین تفصیلات کا جائزہ لیا ہے۔ میں یہ فیصلہ کئی بار پڑھ چکا ہوں اور اب بھی اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ معاشرے کے لیے ایک بہت اہم کیس ہے۔‘
’فلم ایک غیر جانبدار مبصر کے طور پر بننی چاہیے‘
وشال بھاردواج نے واضح کیا کہ ’وہ ایک ایسی فلم نہیں بنانا چاہتے جو کسی طے شدہ نقطۂ نظر سے شروع ہو۔ وہ اس کی بجائے کہانی کو مختلف زاویوں سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘
ان کے مطابق، یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ فلم کس رُخ پر آگے بڑھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں اس بات پر واضح ہوں کہ فلم کا انداز ایک غیر جانبدار مبصر جیسا ہونا چاہیے، جیسے کہ ایک بے باک فلمی صحافی۔‘
انہوں نے اپنے بیانیے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی بھی کہانی مختلف نقطۂ نظر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، خاص طور پر ’راشومون‘ کی ساخت میں، کیونکہ پانی سے بھرا آدھا گلاس بیک وقت آدھا خالی بھی ہوتا ہے۔ فرق صرف زاویۂ نظر کا ہے۔‘

بھاردواج: ’اداکار بغیر کسی پیشگی رائے کے اپنا کردار ادا کریں‘

بھاردواج نے کاسٹنگ کے حوالے سے کہا کہ ’وہ ایسے اداکار کو ترجیح دیں گے جو اس کیس سے زیادہ واقف نہ ہو، تاکہ اس کی اداکاری پہلے سے قائم کیے گئے خیالات سے آزاد رہے۔‘
ان کے اپنے الفاظ میں، ’میں چاہتا ہوں کہ اداکار اگر ممکن ہو تو اس جرم سے ناواقف ہو اور فیصلوں کو ایک طرف رکھ دے۔ میں چاہوں گا کہ وہ اسے فکشن کی ایک کہانی کے طور پر لے۔‘

ٹرائل کورٹ نے سال 2021 میں ترن تیجپال کو بری کر دیا تھا، تاہم گوا حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کر دیا (فوٹو: اے ایف پی)

فلم ساز نے یہ بھی بتایا کہ یہ منصوبہ ایک بڑے بالی وڈ سٹوڈیو کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے پروڈکشن ہاؤس کا نام ظاہر نہیں کیا۔

بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ اور ترن تیجپال

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب بمبئی ہائی کورٹ نے 2021 میں گوا کی سیشن عدالت کی جانب سے ترن تیجپال کو بری کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
تیجپال کو 2013 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان کی ایک جونیئر ساتھی نے ان پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا۔ ٹرائل کورٹ نے 2021 میں انہیں بری کر دیا تھا، تاہم گوا حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔
6 اگست کو بمبئی ہائی کورٹ نے بریت کو مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ’غلط اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔
ہائی کورٹ نے متاثرہ خاتون کے بیان، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور تیجپال کی جانب سے بھیجے گئے معذرتی ای میلز کو مدِنظر رکھتے ہوئے انہیں مجرم قرار دیا اور دس سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی۔
ترن تیجپال نے کہا ہے کہ ’وہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔‘

شیئر: