Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد اور تہران کے درمیان قریبی اعتماد کا تعلق ہے، مسعود پزشکیان

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان پاکستان کے ایک روزہ سرکاری دورے کے بعد واپس وطن روانہ ہو گئے ہیں۔ اس موقعے پر ان کی صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔
ایرانی صدر نے منگل کی شب اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’پاکستان اور ایران ایک منزل اور مستقبل کے شراکت دار ہیں۔‘
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات مختلف نوعیت کے حامل ہیں۔ پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ منزل اور مستقبل کے شراکت دار ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان صرف ہمارا ہمسائہ ہی نہیں بلکہ ایک دوست اور برادر ملک ہے۔ ماضی قریب میں ہونے والے واقعات دونوں ممالک کے قریبی رشتے کے عکاس ہیں۔ اسلام آباد اور تہران کے درمیان باہمی احترام اور قریبی اعتماد کا تعلق ہے۔‘
اس موقعے پر وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر کو مخاطب کر کے کہا کہ ’ آپ کی شخصیت برداشت اور قائدانہ صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔ آج کا دن تاریخی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ مذاکراتی عمل کا پہلا مرحلہ پورا ہوا۔ میری دعا ہے کہ یہ امن اسی طرح سے قائم رہے۔‘
 ان کا کہنا تھا کہ ’ایران نے پاکستان پر اعتماد کیا جس پر شکر گزار ہوں، بلیسٹک میزائل کے حوالے سے دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک کے پاس بلیسٹک میزائل ہیں۔ ایران کو بیلسٹنگ میزائل رکھنے کا حق ہے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ ان مذاکرات میں کبھی ایجنڈے پر شامل ہی نہیں تھا۔‘

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلام آباد اور ایران کے درمیان باہمی احترام اور قریبی اعتماد پر مشتمل ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

میں شکریہ ادا کرتا ہوں ایران اور امریکی وفود کا جنہوں نے سویذر لینڈ میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ مذاکراتی عمل میں حصہ لیا۔ میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیے کے صدر اور امیر قطر کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی اور مثبت کردار ادا کیا۔‘پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’میں آپ کی دعوت پر آئندہ ہفتے ایران کا دورہ کروں گا۔ ایران کی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے آؤں گا۔‘
واضح رہے کہ ایران کے صدر کی حیثیت سے ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔
منگل کو اسلام آباد آمد پر ایئر پورٹ پر ایرانی صدر کا استقبال صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کیا۔
اس موقعے پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جس میں وزراء اور دیگر سینیئر حکام شامل ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس آمد اور گارڈ آف آنر
ایئرپورٹ سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم ہاؤس کا دورہ کیا جہاں ان کا باقاعدہ استقبال کیا گیا۔
اس موقعے پر انہیں مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے کی جانب سے روایتی ’گارڈ آف آنر‘ پیش کیا گیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔

ایرانی صدر کو مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے کی جانب سے روایتی ’گارڈ آف آنر‘ پیش کیا گیا (فوٹو: گی او پی، ایکس)

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
اس موقعے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی جس کے دوران علاقائی صورتحال اور امن کے لیے جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایرانی صدر نے مذاکرات کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بیان کے مطابق ’انہوں نے بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کے اس دور میں تنازعات کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی اور علاقائی شراکت داروں کے مابین افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اعتراف کیا۔‘
’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔‘
ایرانی صدر کے انتہائی اہم دورے کے پیشِ نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی اور سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون کو عام آمد و رفت کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔

شیئر: