انڈیا مذہبی اقلیتوں کی حراست کے لیے دہشت گردی کے قوانین استعمال کر رہا ہے: امریکی کمیشن
انڈیا مذہبی اقلیتوں کی حراست کے لیے دہشت گردی کے قوانین استعمال کر رہا ہے: امریکی کمیشن
جمعہ 25 ستمبر 2026 11:52
انڈیا میں گرفتار ہونے والے برطانوی نژاد سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل نو برس بعد ضمانت ملی ہے (فوٹو: براؤن ہسٹری)
امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایف سی آئی آر ایف) نے انڈیا پر مذہبی اقلیتوں کی حراست کے لیے دہشت گردی سے متعلق قوانین کے استعمال کا الزام لگاتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ انڈین حکام کے ساتھ مل کر مذہبی آزادی کے قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کرے۔
یو ایس سی آئی آر ایف کا یہ بیان برطانوی نژاد سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کو ضمانت ملنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
نئی دہلی ہائی کورٹ نے تقریباً 9 سال حراست میں رہنے کے بعد جگتار سنگھ جوہل کو ضمانت دی ہے تاہم کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کی برطانیہ واپسی اور خاندان سے دوبارہ ملنے کے حوالے سے اب بھی صورت حال واضح نہیں۔
یو ایس سی آئی آر ایف کے چیئرمین آصف محمود کا کہنا ہے کہ ضمانت کی شرائط کے تحت جگتار سنگھ جوہل کو اپنا پاسپورٹ جمع کرانا ہو گا، ان کے میڈیا سے رابطے پر پابندی ہو گی جبکہ ان کے خلاف آٹھ الزامات میں سزائے موت کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
امریکی کمیشن کے مطابق انڈین حکام نے 2017 میں جگتار سنگھ جوہل کو قتل اور دہشت گردی کے الزامات پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا تھا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے متعدد خصوصی نمائندوں نے اس قانون بین الاقوامی معیار اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متعلق انڈین قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف کے مطابق گرفتاری سے قبل جگتار سنگھ جوہل نے انڈیا میں سکھ برادری کے ساتھ ہونے والی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بلاگز لکھے تھے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کے مقدمے میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی اور حکام ان کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔
بیان کے مطابق اقوام متحدہ نے 2022 میں جگتار سنگھ جوہل کی حراست کو من مانی کارروائی قرار دیا تھا جبکہ حال ہی میں اسے نفسیاتی تشدد کے مترادف قرار دیا گیا۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے دوران حراست جگتار سنگھ جوہل سے ہونے والے مبینہ سلوک کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے (فوٹو: یو ایس سی آئی آر ایف)
کمیشن کا کہنا ہے کہ جوہل نے انڈین حکام پر بجلی کے جھٹکے دینے، نیند سے محروم رکھنے، جسمانی اذیت دینے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے ہیں اور کہا ہے کہ ان حالات میں ان سے اعترافی بیان لیا گیا۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ انڈین حکام سے جگتار سنگھ جوہل کی حراست اور دورانِ حراست مبینہ سلوک کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرے۔
کمیشن کی نائب چیئر سی سی ہیل کا کہنا ہے کہ جوہل کا معاملہ انڈین حکومت کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کو خاموش کرانے یا قید کرنے کے وسیع تر رجحان کی مثال ہے۔
انہوں نے عمر خالد اور شرجیل امام سمیت دیگر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یو اے پی اے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے مقدمات میں تاحال قبل از مقدمہ حراست میں ہیں۔
یو ایس سی آئی آرایف نے مزید الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں انڈین حکومت نے شمالی امریکہ میں سکھ برادری کے ارکان کو قتل کرنے اور قتل کی کوششوں کی منصوبہ بندی بھی کی، جسے کمیشن نے بیرون ملک موجود سکھ برادری کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش قرار دیا۔
امریکی کمیشن نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں بھی امریکی محکمہ خارجہ سے سفارش کی تھی کہ انڈیا کو مذہبی آزادی کی ’منظم، مسلسل اور سنگین‘ خلاف ورزیوں کے باعث ’مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویشناک ملک‘ قرار دیا جائے۔
یو ایس سی آئی آر ایف امریکی کانگریس کے قائم کردہ ایک آزاد اور دو جماعتی کمیشن کے طور پر بیرونِ ملک مذہبی آزادی کی صورتحال کی نگرانی اور اس حوالے سے صدر، وزیر خارجہ اور کانگریس کو پالیسی کی سفارشات پیش کرتا ہے۔