اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی، کون سے غیرمعمولی اختیارات حاصل ہوں گے؟
اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی، کون سے غیرمعمولی اختیارات حاصل ہوں گے؟
جمعرات 24 ستمبر 2026 15:49
پاکستان کی وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ممکنہ لانگ مارچ کے اعلان کے پیشِ نظر دارالحکومت اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں پاکستان رینجرز کو مکمل قانونی اختیارات کے ساتھ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے یہ اقدام چیف کمشنر اسلام آباد اور حکومتِ پنجاب کی درخواست پر اٹھایا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
اس احتجاجی مارچ سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے شہر بھر میں غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستوں اور ریڈ زون پر کنٹینرز کھڑے کر دیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس ناکہ بندی اور ’سخت سکیورٹی اقدامات کا بنیادی مقصد مسلح یا انتشاری گروہوں کے اسلام آباد میں داخلے کو روکنا ہے۔‘
سکیورٹی خدشات اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش
اسلام آباد اور پنجاب میں یہ تمام انتظامی اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب وفاقی دارالحکومت کی جانب سیاسی اور عوامی احتجاج کی لہر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کی احتجاجی کال سے نمٹنے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب نے راولپنڈی ریجن کے مخصوص مقامات بشمول باہتر سے ایم ون، گنگو، اٹاہا، ٹیکسلا، واہ، ٹھلیاں، چکری اور ضلع اٹک میں 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز (2G, 3G, 4G) ڈاؤن گریڈ یا جام کرنے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ اور پی ٹی آئی کو مراسلہ بھی ارسال کیا ہے۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیلی فونک درخواست پر جماعت اسلامی کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ فی الحال مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق وزیراعظم نے بیرون ملک سے واپسی پر ملاقات کا وعدہ کیا ہے اور اگر پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف نہ ملا تو جماعت اسلامی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اپنا لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کرے گی۔
احتجاجی مارچ سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے شہر بھر میں غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ
وزارتِ داخلہ کے جمعرات کو جاری کردہ اعلامیے میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ پرتشدد یا مسلح جتھوں کے حملوں کی صورت میں اپنے دفاع، شہریوں کے تحفظ اور سرکاری املاک کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اور مناسب جوابی اقدامات کیے جائیں۔
قانون کے مطابق رینجرز کی یہ تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) 1997 کے تحت کی گئی ہے جو فورسز کو مخصوص اختیارات فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959، دفعات 7 بیاور 10
دفعہ 7 بی رینجرز کو سول انتظامیہ کی معاونت اور ملک کے اندرونی امن کو برقرار رکھنے کا اختیار دیتی ہے جبکہ جس پر امنِ عامہ میں خلل ڈالنے یا کسی قابلِ دست اندازی جرم میں ملوث ہونے کا معقول شبہ ہو۔
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 (دفعات 4 اور 5)
انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 4 کے تحت حکومت کو امن و امان کی سنگین صورتحال یا دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سول فورسز کو طلب کرنے کا قانونی جواز ملتا ہے جبکہ دفعہ 5 رینجرز کو پرتشدد سرگرمیوں، مسلح حملوں کو روکنے کے لیے مناسب طاقت کے استعمال، بغیر وارنٹ تلاشی و گرفتاری اور ناگزیر صورتحال (شدید تشدّد یا جان و مال کو لاحق خطرے) میں اپنے دفاع اور عوامی تحفظ کے لیے گولی چلانے کا قانونی اختیار بھی دیتی ہے۔