پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں ڈرونز ذخیرہ اور لانچ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ جمعرات کو افغانستان کے جنوبی شہر قندھار پر فضائی حملے کی اطلاع ہے، یہ وہی شہر ہے جہاں طالبان حکومت کے سپریم لیڈر رہائش پذیر ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ جمعرات کو پہلے طیارے کی آواز سنائی دی اس کے بعد زوردار دھماکہ ہوا اور شہر کے مرکزی حصے میں آگ لگ گئی۔
واقعے میں ہلاکتوں، زخمیوں یا دوسرے نقصانات کے حوالے سے اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
مزید پڑھیں
اس صورت حال پر موقف جاننے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کا افغان حکومت نے فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
یہ حملہ ان کارروائیوں کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جس میں پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں چند مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ہدف شدت پسندوں کے ٹھکانے تھے اور ان میں 28 شدت پسند مارے گئے۔
دوسری جانب ان حملوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان میں کم سے کم سے تین افراد ہلاک ہوئے۔
بدھ کو پاکستانی حکام نے بتایا تھا کہ افغانستان کی طرف سے آنے والے آٹھ ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔
Update-Ghazab lil Haq
Islamabad, 24 September 2026;
Pakistan condemns in the strongest possible terms the deliberate and unlawful incursion into Pakistan by drones on 23 September 2026, launched from Afghan territory. This constitutes a blatant violation of Pakistan’s…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) September 24, 2026
پاکستان کے وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعرات کی صبح ایک پر ایک پوسٹ میں آپریشن غضب للحق کی اپ ڈیٹس شیئر کیں۔
ان میں بتایا گیا کہ پاکستان افغانستان کی جانب سے کی گئی دانستہ اور غیرقانونی دراندازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے اپنے دفاع اور خود مختاری کے قانونی حق کے تحت افغانستان میں 10 ایسے مقامات کو درستی کے ساتھ نشانہ بنایا جہاں سے ڈرونز ذخیرہ اور لانچ کیے جا رہے تھے۔

بیان کے مطابق پاکستان کئی بار سے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی سے افغان حکومت کو آگاہ کرتا اور ان پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔
پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے بجائے افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان کے خلاف ڈرونز استعمال کر کے صورت حال کو مزید کیا۔
ان کے مطابق پاکستان کے دفاعی نظام نے ڈرونز کا بروقت پتہ لگایا اور مقررہ اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی تباہ کر دیا۔
اگرچہ سرحدی علاقوں پر حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں مگر افغانستان کے شہروں پر فضائی حملے بہت کم ہوئے ہیں۔

فروری میں پڑوسی ممالک کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد قندھار اور دارالحکومت کابل دونوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کا کہنا ہے کہ کئی ہفتے تک جاری رہنے والی تشدد اور کشیدگی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اگرچہ پاکستان اور افغانستان مارچ میں جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں تاہم کئی ممالک کی ثالثی کے باوجود پڑوسیوں کے درمیان تنازع کا کوئی مستقل حل سامنے نہیں آ سکا ہے۔












