Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز کا انتظام تہران کے پاس رہے گا: اعلٰی ایرانی مذاکرات کار باقر قالیباف

ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں سنیچر کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام تہران چلائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اس بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد امریکہ ایران جنگ کا خاتمہ ہے۔
پیر کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ثالثوں کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ دونوں ممالک نے اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے اور لبنان میں لڑائی کے خاتمے کے لیے مواصلاتی لائن قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق باقر قالیباف نے مذاکرات سے واپسی کے بعد کہا کہ ’آبنائے ہرمز کبھی جنگ سے قبل والی صورت حال میں واپس نہیں جائے گی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اس کا انتظام و انصرام اسلامی جمہوریہ کے پاس ہو گا۔‘
اسی طرح ان کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں ’اچھی کامیابیاں‘ حاصل ہوئی ہیں۔
’میرے خیال میں اس سفر کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں خصوصاً آبنائے ہرمز اور لبنان کے معاملے پر گفتگو کے علاوہ تیل پر پابندیوں میں نرمی اور منجمد فنڈز کے اجرا سے متعلق اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔‘
پیر کو ہونے والے مذاکراتی سیشن کے بعد امریکی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اس نے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد ایران اقوام متحدہ کے نیوکلیئر انسپکٹرز کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت دے گا۔
معاہدے کے تحت تہران کو توقع ہے کہ واشنگٹن پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ساتھ منجمد اثاثوں کو بھی بحال کرے گا۔
محمد باقر قالیباف کا ویڈیو میں مزید کہنا تھا کہ ’یقیناً ہمارا ماننا ہے کہ ہم ابھی اس عمل کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ہمیں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع بھی دی کہ باقر قالیباف نے واپسی پر عمان میں قیام بھی کیا جو کہ آبنائے ہرمز سے ملحقہ ملک ہے۔
اس آبی گزرگاہ جس کو ایران جنگ کے شروع ہونے کے ساتھ ہی بند کر دیا گیا تھا، کو پچھلے ہفتے دوبارہ اس وقت کھولا گیا تھا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔
تاہم تہران نے سنیچر کو ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا اور اس کو لبنان پر اسرائیلی حملوں کا ردعمل قرار دیا تھا لیکن امریکہ نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا۔
اس کے بعد ثالثی کرانے والے ممالک قطر اور پاکستان کی جانب سے بتایا گیا کہ تہران اور واشنگٹن آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے اور کسی ناخوشگوار واقعے یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے ایک براہ راست رابطے کا نظام قائم کیا جائے گا۔
سمندری سفر پر نظر رکھنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کے بعد پیر کو آبنائے ہرمز کے راستے سمندری ٹریفک کا بہاؤ کافی زیادہ دیکھنے میں آیا۔

شیئر: